امریکی فورسز نے مسلسل ساتویں رات بھی ایران کے متعدد فوجی اور مواصلاتی ٹھکانوں پر شدید بمباری کی ہے۔ جس کے جواب میں ایران نے کویت اور سعوی عرب میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تازہ ترین امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی شہر اہواز، وسطی شہر یزد اور تزویراتی لحاظ سے اہم خارگ جزیرے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
وسطی شہر یزد میں امریکی میزائل گرنے کے بعد پانچ زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صوبہ ہرمزگان کے ساحلی شہر جاسک میں امریکی میزائلوں نے بجلی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پمپوں کو نشانہ بنایا ہے۔
صوبہ ہرمزگان کے ڈپٹی گورنر نے حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی راکٹوں نے جاسک کاؤنٹی کے ساحلی گاؤں بونجی کی بندرگاہ پر لگے پانی کے پمپوں کو تباہ کر دیا ہے، جس کی وجہ سے علاقے کے کئی دیہاتوں کو پینے کے پانی کی سپلائی مکمل طور پر منقطع ہو گئی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے بندر عباس سے رودان جانے والی اہم ترین شاہراہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو بڑے پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ اس اہم سفری اور تجارتی راستے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں متعدد ایرانی شہری جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے صوبہ لورستان کے شہر خرم آباد میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بارے میں ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے کویت میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے داغے گئے میزائلوں کے گرنے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق امریکی فوج نے خارگ جزیرے کے قریب کھڑے ایک خالی ایرانی آئل ٹینکر ’بیلما این آئی 22‘ پر دو دنوں میں دوسری بار حملہ کیا ہے، اس ٹینکر کو دو روز قبل بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایران پر کارروائیوں کا نیا دور امریکی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے شروع کیا گیا جس میں لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور جنگی بحری جہازوں کا استعمال کیا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کا بنیادی مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
امریکی سینٹ کام کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی مہم کے دوران گزشتہ تین دنوں میں چار تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا گیا جبکہ ایک مشکوک جہاز کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق، اس وقت خطے میں پچاس ہزار سے زائد امریکی فوجی ہائی الرٹ ہیں۔
امریکا کے ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی انتہائی جارحانہ ردعمل کا اظہار کیا ہے اور خلیجی خطے میں موجود امریکی اتحادیوں پر حملے کیے ہیں۔
ایرانی بحریہ نے بحرِ ہند کے شمالی حصے میں موجود ایک امریکی جنگی جہاز پر زمین سے سمندر میں مار کرنے والا کروز میزائل داغ دیا، جس کے بعد امریکی جہاز کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنانے کی مہم کے دوران ان کے میزائلوں نے اردن میں موجود امریکی لڑاکا طیاروں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
دوسری طرف اردن کی فوج نے کہا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ہفتے کی صبح ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
اردن کی فوج نے واضح کیا کہ یہ کارروائی مملکت کی خودمختاری کی حفاظت اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی تھی، اور ان میزائلوں کے گرنے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، جبکہ رائل انجینئرز کی ٹیمیں ملبے کو ہٹانے کے کام میں مصروف ہیں۔
اس کے ساتھ ہی ایران نے کویت میں موجود امریکی فوجی کیمپوں اور تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔
کویتی فوج کے مطابق ایران نے اپنے حملوں میں شہری تنصیبات خصوصاً بجلی بنانے اور پانی صاف کرنے والے ایک بڑے اسٹیشن کو نشانہ بنایا جس سے بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹس کو نقصان پہنچا اور وہاں آگ لگ گئی۔
ان ڈرون اور میزائل حملوں میں کویتی فوج کے کچھ اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم کویتی فوج کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے فضا میں ہی ایران کے کئی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ بحرین میں بھی امریکی ڈرون ڈپو کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں۔
ان بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کے سینئر مشیر اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی نے امریکا کو کھلی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے اگلے دو روز تک اسی طرح جاری رہے تو ایران اپنے دفاع سے نکل کر مکمل طور پر انتہائی جارحانہ کارروائیوں کے مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔
انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکی فوج اب میزائلوں اور ڈرون حملوں کی پے در پے لہروں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔“
محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والا امن معاہدہ یا مفاہمتی یادداشت اب عملاً ختم ہو چکی ہے کیونکہ امریکا نے لبنان، آبنائے ہرمز اور ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا۔
انہوں نے امریکا پر منافقت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف جنگ کی ڈبل پالیسی اپنا رکھی ہے اور اس نے عارضی جنگ بندی کے وقت کو صرف ایران کی ناکہ بندی مکمل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
خطے میں سویلین انفرا اسٹرکچر یعنی عام شہریوں کے استعمال کے بنیادی ڈھانچے، جیسے پلوں اور بجلی گھروں پر ہونے والے ان حملوں پر اقوامِ متحدہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ”سیکرٹری جنرل ایران اور پورے خطے میں سویلین انفراسٹرکچر پر ہونے والے حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہرے طور پر فکرمند ہیں۔“
اس شدید لڑائی اور کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک چار فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر نومبر میں ہونے والے کانگریس کے انتخابات سے قبل اندرونی طور پر سیاسی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے محکمۂ شہری دفاع نے بھی احتیاط کے طور پر الخرج اور ینبع کے علاقوں میں ہنگامی الرٹ جاری کیا تھا جسے بعد میں ہٹا لیا گیا، تاہم اب تک سعودی عرب میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔