انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان نے تصدیق کی ہے کہ مصر کو مستقبل میں مکہ معاہدے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
عرب ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک بیان میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ مکہ معاہدہ کسی مخصوص تعداد میں ممالک تک محدود نہیں اور مصر بھی مستقبل میں اس کا حصہ بن سکتا ہے، معاہدے کا دائرہ مزید فریقین تک بڑھایا جاسکتا ہے، معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے اور اس حوالے سے راستے کھلے ہوئے ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ مکہ معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور مشترکہ دفاع کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ معاہدے کے تحت اگر کسی رکن ملک کو بیرونی حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسرے شریک ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اجتماعی طور پر اس کے دفاع میں کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ سلامتی کے اس تصور کا مقصد شریک ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں مشترکہ ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت سے باہمی تعاون اور علاقائی سلامتی کے نظام کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے۔
رجب طیب اردوان نے علاقائی اور عالمی تعلقات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی ترجیحات میں یورپی یونین سب سے اوپر نہیں۔
انہوں نے یورپ کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ایسے مسائل سے دوچار ہے جنہوں نے اسے ناکامی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
ترک صدر نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اہم بحری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آبنائے ہرمز کی طویل عرصے تک بندش کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں اور اس کے باعث خطے سمیت عالمی سطح پر تجارت اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
اردوان نے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے اور اہم تجارتی راستوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
ترک صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب علاقائی سلامتی، باہمی دفاعی تعاون اور اہم بحری راستوں کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ مختلف ممالک خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات کم کرنے کے لیے سفارتی اور سیاسی رابطوں پر زور دے رہے ہیں۔








