لازمی فوجی سروس کے خلاف سینکڑوں حریدی یہودیوں نے مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے خلاف نعرے لگائے اور گرفتار حریدی افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فوجی سروس کے مخالف سینکڑوں حریدی یہودیوں نے گزشتہ رات مقبوضہ قدس کی سڑکوں پر مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ اور فوجی سروس لازمی قرار دیے جانے کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’فوج دشمن ہے‘‘ اور ’’ہم مر جائیں گے، لیکن فوجی سروس نہیں کریں گے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ انہوں نے زیر حراست حریدی افراد کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا۔
اس احتجاج پر ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ہماری فوج کو دشمن قرار دیتے ہیں، لیکن نیتن یاہو نے ان کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے اور انہیں اربوں شیکل مختص کیے جا رہے ہیں۔
حریدی یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے معاملے پر اختلافات ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئے ہیں جب مختلف محاذوں پر جاری کشیدگی کے باعث اسرائیلی فوج کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔
حریدی یہودی مقبوضہ فلسطین کی آبادی کا تقریباً 13 فیصد ہیں اور انہیں کئی دہائیوں سے فوجی سروس سے استثنا حاصل رہا ہے۔ تاہم جون 2024 میں اسرائیلی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ حریدی یہودی بھی فوجی سروس کے پابند ہیں اور ان کے لیے مختص سرکاری بجٹ بھی روک دیا جانا چاہیے۔