امریکی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بی بی سی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں حلف کے تحت سوالات کے جواب دینے کا حکم دے دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے 11 دسمبر تک حلفاً بیان ریکارڈ نہ کرایا تو ان کا بی بی سی کے خلاف 10 ارب ڈالر کا مقدمہ خارج کیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی کے وکیل نے عدالت کو بتایا ہے کہ ٹرمپ 16 اکتوبر کو طے شدہ بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں ہوئے اور انہوں نے اس روز جارجیا میں انتخابی مہم میں شرکت کو ترجیح دی۔
ایران جنگ کے اخراجات و امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں پر ٹرمپ پر شدید تنقید
ٹرمپ کے وکلا نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر جنوری میں سوالات کے جواب دینے کے لیے دستیاب ہو سکتے ہیں۔
امریکی مجسٹریٹ جج اینجولیک لیٹ نے حکم دیا ہے کہ ٹرمپ مقررہ تاریخ تک اپنا بیان ریکارڈ کرائیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں، جن میں مقدمے کا اخراج بھی شامل ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر 2025ء میں بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
ان کا مؤقف ہے کہ بی بی سی کے ایک پروگرام میں 6 جنوری 2021ء کی ان کی تقریر کے 2 مختلف حصوں کو جوڑ کر نشر کیا گیا، جس سے تقریر کا مفہوم گمراہ کن انداز میں پیش ہوا۔