نئی دہلی: ملک کے دارالحکومت دہلی کے معروف تجارتی علاقے کرول باغ میں واقع مشہور غفار مارکیٹ میں جمعہ کے روز (6 نومبر 2026) کو صبح سویرے آتشزدگی کا ایک انتہائی ہولناک واقعہ پیش آیا ہے۔
مارکیٹ کے بلاک 13 کی ‘چین والی گلی’ میں واقع پوری پلازہ نامی عمارت کی ایک دکان میں اچانک بھیانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے قریبی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی دہلی فائر سروس (DFS) نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے۔ آگ کی شدت اور گنجان آباد علاقے کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تک فائر بریگیڈ کی کل 22 ہنگامی گاڑیاں جائے وقوعہ پر تعینات کی جا چکی ہیں، جو امدادی عملے کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
حادثے کا پس منظر اور فائر ٹینڈرز کی روانگی
دہلی فائر سروس کے حکام کے مطابق، آتشزدگی کا یہ واقعہ رات تقریباً 1:30 بجے پیش آیا۔ جیسے ہی کنٹرول روم کو پوری پلازہ کی دکان میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، ابتدائی طور پر فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔
تاہم، گنجان آباد علاقہ ہونے اور دکان میں موجود آتش گیر مادے کی وجہ سے آگ کی شدت دیکھتے ہی دیکھتے انتہائی بڑھ گئی، جس کے بعد محکمہ کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فائر ٹینڈرز کو کام پر لگانا پڑا۔
امدادی کارروائیاں اور ریسکیو کا چیلنج
آگ پر جلد از جلد قابو پانے اور اسے مارکیٹ کی دیگر ملحقہ دکانوں تک پھیلنے سے روکنے کے لیے فائر سروس کی مجموعی طور پر 22 یونٹس سرگرمِ عمل ہیں۔
فائر ڈپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ ان گاڑیوں میں روایتی واٹر ٹینڈرز کے ساتھ ساتھ پانی کے بڑے ٹینکرز (واٹر باؤزرز) اور خصوصی ہنگامی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔
چونکہ یہ واقعہ رات کے اندھیرے میں پیش آیا اور عمارت سے اٹھنے والے سیاہ دھویں نے ریسکیو آپریشن کو مشکل بنا دیا، اس لیے فائر فائٹرز کی سہولت اور امدادی کاموں میں تیزی لانے کے لیے خصوصی لائٹنگ کا سامان (Lighting Equipment) بھی موقع پر پہنچایا گیا ہے۔
نقصانات اور تفتیش کا آغاز
دہلی فائر سروس اور مقامی پولیس کے اہلکار موقع پر موجود ہیں اور آگ بجھانے کی سرگرمیاں تاحال جنگی بنیادوں پر جاری ہیں۔ غنیمت یہ رہی کہ یہ واقعہ رات کے وقت پیش آیا جب مارکیٹ بند تھی، تاہم دکان میں موجود لاکھوں روپے مالیت کے تجارتی سامان کے خاکستر ہونے کا خدشہ ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ (آیا یہ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی یا کوئی اور سبب تھا) کا تاحال قطعی پتہ نہیں چل سکا ہے، اور تفصیلی تحقیقات آپریشن مکمل ہونے کے بعد ہی شروع کی جائیں گی۔