اجودھیا کے لوگوں کو مقدمہ کا فیصلہ جلد ہونے سے روز روز روٹی کی پریشانی سے نجات ملنے کی امید

اجودھیا: ملک کی سیاسی سمت تبدیل کر دینے والے مندر۔مسجد معاملہ کی آج سپریم کورٹ میں باقاعدہ سماعت شروع ہونے سے اجودھیا کے لوگوں کو امید پیدا ہوئی ہے کہ مقدمہ کا فیصلہ آجانے سے روز روز کے جھنجھٹ سے نجات ملے گی۔


مندر۔مسجد تنازعہ کی وجہ سے مستقل طورپر کافی تعداد میں پولیس کی تعیناتی اور روزافزوں ہونے والے پروگراموں سے یہاں کے لوگ عاجز آچکے ہیں۔

تیس دسمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو کی خصوصی مکمل بنچ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر عرضی پر چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت میں تین ججوں پر مشتمل بنچ نے سماعت شروع کی ہے ۔سماعت سے یہاں باشندوں اور فریقین میں ایک امید اور اعتماد پیدا ہوا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جلد از جلد معاملہ کا نپٹارہ ہو اور روز روز کے جھنجھٹ سے نجات ملے ۔

متنازعہ رام جنم بھومی کے پیچھے دوراہی کنواں کے نزدیک رہنے والے مکیش بتاتے ہیں کہ بچوں کو اسکول جانے میں دقت ہوتی ہے ۔ اہم سڑک تک تقریباََ ایک کلومیٹر پیدل بچوں کو لیکر لانا لے جانا پڑتا ہے ۔ کار یا دیگر گاڑیاں لے جانے پر بیریروں پر دس جگہ پوچھ گچھ ہوتی ہے ۔ اس پوچھ گچھ کی وجہ سے رشتہ دار بھی آنے سے کتراتے ہیں۔مکیش نے کہاکہ معاملہ کی سماعت اب سپریم کورٹ میں شروع ہونے سے ایک نئی امیدپیدا ہوئی ہے ۔

لوگوں کو اعتماد ہے کہ جلد ہی مقدمہ کا فیصلہ آئے گا اور یہاں کے لوگوں کو امن و سکون سے زندگی گزارنے موقع ملے گا۔کٹرہ علاقہ کے شبیر کہتے ہیں کہ معاملہ کا جلد نپٹارہ ہوجائے تو اس سے اچھاکچھ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کل چھ دسمبر ہے ۔ چھ دسمبر آتے ہی دل انجانے خوف سے گھبرانے لگتا ہے ۔شبیر نے کہاکہ یہاں ہندو مسلمانوں دونوں مل کر رہتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شامل ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی ڈر لگتا ہے کہ باہر سے آکر لوگ گڑبڑ ی نہ کردیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں جو بھی فیصلہ کرے گا وہ سبھی کو قابل قبول ہوگا اور آہستہ آہستہ حالات خودبخود معمول پر آجائیں گے ۔
سپریم کورٹ میں آج سے شروع ہونے والی سماعت پر عام و خاص تمام کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت میں سپریم کورٹ کی مکمل بنچ اس معاملہ کی روزانہ سماعت کرے گی۔ بنچ میں جج اشوک بھوشن اور جج عبدالنظر شامل ہیں ۔ دونوں فریقین کے وکلا پہلے ہی دہلی میں ہیں۔ہندو فریق کے عرضی گزار وں میں نرموہی ، ہندو مہاسبھا، رام لال وراجمان کے علاوہ رمیش چندر ترپاٹھی اور شنکراچاریہ سوامی سوروپ چند شامل ہیں وہیں مسلم فریق میں سنی وقف بورڈ کے علاوہ پانچ دیگر عرضی گزار ہیں۔ حالانکہ شیعہ وقف بورڈ کے صدر وسیم رضوی نے بابری مسجد ڈھانچہ کے بارے میں رائے دیکر ایک نئے تنازعہ پیدا کردیا ہے ۔ بورڈ نے سپریم کورٹ کو ایک تجویز پیش کی ہے جس میں اجودھیا میں رام مندر اور لکھنو میں مسجد امن کی تعمیر کی پیش کش کی گئی ہے ۔ادھر مغل حکمراں کے آخری جانشین شہزادہ یعقوب حبیب اللہ نے بھی اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے سامنے دعوی کرکے مانگ کی ہے کہ منہدم کی گئی مسجد کی دو ایکڑ زمین انہیں سونپ دی جانی چاہئے ۔

Leave a Comment

Copyright © Dailyaag - All Rights Reserved

Scroll to top