مذاق  – “ہے یہ وہ لفظ کہ  شرمندۂ  معنی نہ ہوا”

زبیر حسن شیخ شیفتہ کا برقی پیام پڑھ کر پہلی بار احساس ہوا کہ دورجدید میں اردو ادب کی مے ناب میں شرابور ہو کر اور ادبا و شعرا  سے مستفیض ہو کر بھی  ہم مذاق ادب سے مکمل طور سے   واقف نہیں ہوئے -  برقی پیام میں صرف اتنا ہی لکھ بھیجا کہ  مذاق – "ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ  معنی نہ ہوا"-  ہم نے سوچا شیفتہ ابھی ابھی ووٹ ڈال کر آئے ہونگے اور سیاست و جمہوریت کو جس طرح مذاق بنایا جارہا ہے اس سے متاثر ہو کر لکھ دیا ہوگا- ...

Read more

یوپی الیکشن: 15 فروری کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں کلید مسلمانوں کے ہاتھوں میں

لکھنؤ:مغربی اترپردیش کے کچھ حصوں اور روہیل کھنڈ خطہ میں 15 فروری کو اسمبلی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالے جائیں گے یہاں تمام 67 حلقوں میں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں مسلمانوں کا کلیدی رول رہے گا ۔ ان میں بی جے پی بھی شامل ہے ۔ سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحاد اور بی ایس پی اور کئی حصوں میں آر ایل ڈی اقلیتی ووٹوں کے اپنے حق میں اکٹھا ہونے کی امید کررہے ہیں مگر دوسری طرف بی جے پی ہے جو اس اہم ووٹ ...

Read more

مہاتما گاندھی اور اُن کا نظریۂ قومی اتحاد

مہاتما گاندھی ایک عہدساز بلکہ تاریخ ساز شخصیت کے مالک تھے، اُنہوں نے اپنے قول وفعل ، مضبوط عزائم اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کرکے ہندوستان کی تقدیر بدلنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کو بھی غیروں کی غلامی سے آزاد ہونے کی راہ دکھائی ہے۔ گاندھی جی کے اہم کارناموں میں قومی اتحاد ، فرقہ وارانہ خیرسگالی، عدم تشدد اور اہنسا کا فلسفہ اِس قابل ہے کہ اُن پر پوری دیانت داری کے ساتھ آج بھی عمل کیا جائے تو ...

Read more

دل دیا ہے جاں بھی دیں گے اے وطن تیرے لئے

ممبئی: ہندوستانی سنیما میں حب الوطنی پر مبنی فلمیں اور نغمے ایک اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں اور آج بھی ان فلموں اور نغموں کے ذریعے حب الوطنی کے جذبے کو بلند کیا جاتاہے ۔ ہندی فلموں میں حب الوطنی فلمیں اور نغمے 1940 کی دہائی سے شروع ہوئے ۔ ڈائریکٹر گیان مکھرجی کی 1940 میں آئی فلم 'بندھن ’ یسی پہلی فلم تھی جس میں ملک کی محبت کی روح کو سلور اسکرین پر دکھایا گیا تھا۔ یوں تو فلم بندھن میں شاعر پردیپ کے لکھے تما ...

Read more

ہمت ہو تو ایسی ہو،چلنے سے قاصر خاتوں نے پہاڑی عبور کی

ہانگ کانگ: 33 سالہ لائی چی وائی پانچ سال پہلے پہاڑیوں پر چڑھنے کیچیمپیئن تھیں لیکن 9 دسمبر 20111 کو ایک موٹرسائیکل حادثے نے انہیں ہمیشہ کے لیے چلنے پھرنے سے معذور بنادیا۔ اس حادثے میں کمر سے نیچے ان کا حصہ مفلوج ہوچکاتھا۔ اس سانحے کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے ان کی بھرپور مدد کی اور وہ وھیل چیئر باکسنگ کے مقابلوں میں حصہ لینے لگیں جو چلنے سے معذور افراد میں ارتکاز اور فوکس میں مدد دینے والا ایک نیا ...

Read more

Copyright © Dailyaag - All Rights Reserved

Scroll to top