ہمت ہو تو ایسی ہو،چلنے سے قاصر خاتوں نے پہاڑی عبور کی

ہانگ کانگ: 33 سالہ لائی چی وائی پانچ سال پہلے پہاڑیوں پر چڑھنے کیچیمپیئن تھیں لیکن 9 دسمبر 20111 کو ایک موٹرسائیکل حادثے نے انہیں ہمیشہ کے لیے چلنے پھرنے سے معذور بنادیا۔ اس حادثے میں کمر سے نیچے ان کا حصہ مفلوج ہوچکاتھا۔ اس سانحے کے بعد ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں نے ان کی بھرپور مدد کی اور وہ وھیل چیئر باکسنگ کے مقابلوں میں حصہ لینے لگیں جو چلنے سے معذور افراد میں ارتکاز اور فوکس میں مدد دینے والا ایک نیا ...

Read more

ریت سے ڈھکا خوبصورت قصبہ

جرمنی میں دور دراز فاصلے پر واقع ایک قصبہ اپنے منفرد اور کسی حد تک پراسرار محل وقوع کی وجہ سے سیاحوں کے لیے بے حد دلچسپی کا باعث ہے۔ یہ پراسرار اور متروک قصبہ بیسویں صدی میں کان کنوں نے آباد کیا تھا۔ یہاں ہیرے کی کانیں تھیں جنہوں نے کان کنوں کو نہایت خوشحال کردیا تھا۔ اس دور کے حساب یہ قصبہ تمام جدید سہولتوں سے آراستہ تھا اور یہاں ایک ٹرام بھی موجود تھی۔ اس قصبے کے گھر نہایت خوبصورت اور رنگین بنائے گئے تھ ...

Read more

نہ تھا رقیب تو آخروہ نام کس کا تھا؟

ایم ودودساجد وزیر اعظم نریندر مودی نے جس روز(18اکتوبرکو) پاکستان کے خلاف ہندوستان کے سرجیکل اسٹرائک کو (فلسطین کے خلاف)اسرائیل کے ٹارگیٹ حملوںسے تعبیر کیااسی روز مجھے ’مشرق وسطی اور ہندوستان‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک ’ہائی لیول‘گروپ ڈسکشن (مذاکرہ)میں حصہ لینے کا موقعہ ملاتھا۔میں نے اس مذاکرہ کو ’ ہائی لیول گروپ ‘کامذاکرہ اس لئے کہا کہ اس میںبی جے پی کے کم سے کم دوممبران پارلیمنٹ‘وزارت خارجہ کے ایک اف ...

Read more

اُلو آخر اتنے اُلو کیوں ہوتے ہیں؟

میرشاہد حسین الو رات بھر جاگتے ہیں اور دن میں آرام کرتے ہیں اسی لیے پاکستان میں صبح کے وقت کاروبار ویران دکھائی دیتے ہیں. الو کو الو کیوں کہا جاتا ہے؟ یہ بات آج تک ہماری سمجھ میں نہیں آسکی۔ شاید کسی الو کو یہ بات پتہ ہو لیکن ہمیں پتہ نہیں۔ الو اتنے الو نہیں ہوتے جتنے دکھائی دیتے ہیں، پھر بھی ہم الو کو الو ہی کہتے ہیں۔ اس کے باوجود اکثر الو کو الو کہا جائے تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔ اب اگر الو کو الو نہ کہیں تو ...

Read more

سوشل میڈیا ہوچکا ہے بے اثر؟

جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے خبری کے اندھیرے سے باہر نکال کر آگاہی کی روشنی میں پہنچادیا ہے۔ یاد کیجئے جب اینڈرائڈ موبائل لوگوں کے پاس نہیں تھے اور ان کے پاس خبروں کا صرف ایک واحدذریعہ میڈیا تھا اس وقت کیا کسی نے سوچا تھا کہ آنے والا وقت ایک عام آدمی کا ہوگا جہاں اسکی بات دور دور تک سنی جاسکے گی؟ ا سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا نے اس خواب کو سچ کردکھایا اور آج یہی سوشل میڈیا ایک طاقتور عوامی آواز بن کر اب ...

Read more

Copyright © Dailyaag - All Rights Reserved

Scroll to top