سامن مچھلیاں سمندر میں راستے کا تعین کیسے کرتی ہیں؟

سمندر اور میٹھے پانی کی مچھلیوں (سامن) کے بارے میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے، جس کی مدد سے اس راز سے پردہ اٹھ سکتا ہے کہ وہ دریاؤں تک پہنچنے کے لیےکھلے سمندر میں ہزاروں میل کا سفر کیسے کرتی ہیں۔یہ مچھلیاں انڈے دینے کی عمر سے پہلے سمندر میں ہزاروں میل کا سفر کرتے ہوئے اپنے دریاؤں میں پہنچتی ہیں۔ سائنسدانوں نے اُن کے اس سفر کے طریقہ کار کا پتہ چلانے کے لیے فشریز کے دستاویزات پر مبنی 56 سال کے ڈیٹا کا جائز ...

Read more

چاول فوڈپوائزننگ کیوں کرتے ہیں؟

اکثر گھروں پر چاول دو یا تین ٹائم پر کھائے جاتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر پکے ہوئے چاولوں کو ٹھیک طریقہ سے محفوظ نہ کیا جائے تو فوڈ پوئزننگ کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، کچے چاولوں میں ایک مخصوص بیکٹریا موجود ہوتا ہے جو پکانے کے دوران عموماً ختم ہو جاتا ہےلیکن پکے ہوئے چاولوں کو محفوظ کیے بغیر کھلا چھوڑ دینے سے یہ بیکٹریا دوباہ پھلنے پھولنے لگتا ہے اور نتیجتاً فوڈ پوئزنگ ہو سکتی ہے۔ امریکی ...

Read more

دہلی میں فضائی آلودگی ‘ انتہائی خراب’ زمرے میں

نئی دہلی: دہلی والوں نے آج ایک مرتبہ پھر دھند اور فضائی آلودگی کی 'انتہائی خراب زمرہ' والي صبح میں آنکھیں کھولیں۔ حد بصارت کی کم سطح کی وجہ سے 13 ٹرینوں کو منسوخ کر دیا گیا اور تقریباً 36 تاخیر سے چل رہی ہیں۔ سینٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سي پي سي بی) سے حاصل اعداد و شمار کے مطابق صبح 10 بجے قومی راجدھانی کے جنرل ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 386 تھا جو بہت ہی خراب زمرے میں آتا ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ک ...

Read more

فائبر سے بھرپور غذائیں امراض سے پاک زندگی کی کنجی

فائبر درحقیقت دو اقسام کا ہوتا ہے ایک کولیسٹرول کی سطح کم کرنے والا یا آسانی سے ہضم ہونے والا جو کہ دلیہ، مٹر، بیج، سیب، ترش پھل، گاجر وغیرہ میں پایا جاتا ہے جبکہ ایک قسم جذب نہ ہونے والا فائبر ہے جو گندم کے آٹے، گریوں، آلو اور سبزیوں جیسے گوبھی میں پایا جاتا ہے۔ یہ جز لوگوں کو بڑھاپے میں مختلف بیماریوں اور معذوری سے بچانے کے لیے مفید تصور ہوتا ہے۔ فائبر کے اثرات اتنے نمایاں ہیں کہ اس کے استعمال کے نتیجے می ...

Read more

ڈینمارک کی یہ بیماری یو پی میں پھیل رہی ہے !

لکھنؤ. ڈنمارک اور اسکاٹ لینڈ کی بیماری 'ڈیرر' نے یو پی میں بھی دستک دی ہے. کنپور ضلع میں اس بیماری کے علامات مل چکے ہیں. یہ لالا لاجپت رائے ہسپتال (ہالٹی) کے پاتھالوجیکل ڈیپارٹمنٹ کے تحقیق میں نازل ہوا ہے. دراصل، ایک 20 سالہ لڑکی ہیلیے ہسپتال پہنچا جس نے لاشوں پر لال ریشوں کا علاج کیا. 30 دن کی تحقیق کے بعد، جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے ڈاکٹروں نے یہ پتہ چلا کہ یہ ایک عام جلد کی بیماری نہیں بلکہ 'ڈیری' تھی ...

Read more

Copyright © Dailyaag - All Rights Reserved

Scroll to top