سعودی عرب میں ناراض بیوی کو منانے کا انوکھا انداز

سعودی عرب میں لڑکیوں کے ایک سکول کے پرنسپل رواں ہفتے اس وقت حیران رہ گئیں جب انھوں نے ایک صبح سکول عملے کی ایک رکن کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے محبت کے مختلف اقرار ناموں سے بھرا پایا۔

ہر طرف زمین پر اور فرنیچیر پر گلاب کے پھول کی پتیاں اور کرنسی نوٹ بکھرے پڑے تھے، غبارے دیواروں پر چپکائے ہوئے تھے اور کمرے کے عین درمیان میں پڑے ایک میز پر کئی طرح کے کیک رکھے تھے۔

کمرے کے ایک کونے میں کئی گلدستوں کے بیچ ایک سونے کا ہار رکھا ہوا تھا۔ اس کے قریب ہی چمکتی لایٹس کے درمیان ایک پیغام لکھا ہوا تھا۔
گلف نیوز کی ویب سائٹ کے مطابق یہ سب سکول میں کام کرنے والے عملے کی ایک رکن کے شوہر نے کیا تھا، جو بظاہر اپنی بیوی کے ساتھ لڑائی کے بعد انھیں منانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس سے سارے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شائع کی گئی جسے اب تک ہزاروں مرتبہ دیکھا جا سکا ہے۔ اس ویڈیو پر رد عمل ظاہر کرنے والوں میں سے بعض نے تو انتہائی غصے میں یہ سوال کیا کہ ایک مرد لڑکیوں کے سکول میں داخل کیسے ہوا۔
ایک صارف نے لکھا: ’ایک مرد کے لیے اپنی بیوی کا احترام کرنا اچھائی اور وفاداری کی انتہا ہے لیکن اس طرح سے نہیں۔ اگر وہ یہ سب ہی کرنا چاہتے تھے تو انھیں اپنے یا اپنے خاندانی گھر میں یہ سب کرنا چاہیے تھا۔‘
مقامی تعلیمی حکام کی جانب سے تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ شخص ان کے اپنے سکیورٹی اینڈ سیفٹی کے محکمے کا رکن ہے اور وہ سکول بند ہونے کے بعد کمرے میں داخل ہوا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ساتھ سکول میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے، اور اسی طرح مردوں اور خواتین کو عوامی مقامات پر ملنے کی اجازت نہیں ہے۔
تاہم سعودی حکومت خواتین سے متعلق پابندیوں میں نرمی کر رہی ہے تاکہ انھیں بھی کام کرنے کی اجازت دی جاسکے۔

Leave a Comment

Copyright © Dailyaag - All Rights Reserved

Scroll to top