کابل :افغانستان میں فوج اور طالبان کے درمیان جاری تشدد میں اس سال کے ابتدائی چھ ماہ میں پانچ ہزار شہری مارے جا چکے ہیں۔اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغانستان سے گزشتہ سال غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد سے افغان فوج اور طالبان کے درمیان تشدد میں اضافہ ہوا ہے ۔
گزشتہ سال کی پہلی ششماہی میں ہونے والے تصادم میںجتنے شہری مارے گئے تھے ٹھیک اسی وقت اس سال کے دوران مارے گئے لوگوں کی تعداد میں ایک فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔اقوام متحدہ نے کہا کہ تصادم میں بڑی تعداد میں شہریوں کا مارا جانا انتہائی المناک ہے ۔ دونوں فریقوں کے درمیان تشدد میں اس سال کے ابتدائی چھ ماہ میں شہری ہلاکتوں میں تقریبا 70 فیصد ہلاکتیں طالبان کے حملے میں ہوئی ہیں۔
طالبان کے خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں بڑی تعداد معصوم شہریوں کی ہیں۔زمینی سطح پر ہونے والے تصادم میں مارٹر، گرینیڈ اور راکٹ حملوں کی زد میں آنے سے بڑی تعداد میں عام شہری مارے گئے یا زخمی ہوئے ہیں۔افغانستان میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے یونٹ کے ڈائریکٹر ڈینیئل بیل نے کہا کہ ان تصادم سے شہریوں کو الگ رکھنے کی ترجیح دونوں ہی فریقین کو دکھانی چاہئے تاکہ عام شہریوں کو اس کی زد سے دور رکھا جاسکے اور ہلاکتوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے ۔