بھونیشور/برہم پور: اوڈیشہ کی معمر ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر کے لکشمی بائی نے اپنی 100 ویں سالگرہ پر ایک ایسا کارنامہ انجام دے کر سب کو حیران کر دیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
انہوں نے اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی، یعنی 3.4 کروڑ روپے، ایمس بھونیشور میں خواتین کے کینسر کے علاج کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر لکشمی بائی، جنہوں نے اپنی زندگی کے ابتدائی ایام سے لے کر بڑھاپے تک ہزاروں مریضوں کا علاج کیا، نے کہا کہ “میری کمائی لوگوں کی امانت تھی، اور اسے انہی تک واپس جانا چاہیے، خاص طور پر اُن خواتین تک جو چپ چاپ اپنی تکلیفیں سہتی ہیں۔
” ڈاکٹر بائی 1926 میں برہم پور میں پیدا ہوئیں۔ وہ اوڈیشہ کی پہلی خاتون گائناکالوجسٹوں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے 1945–50 کے دوران کٹک کے ایس سی بی میڈیکل کالج کے اولین ایم بی بی ایس بیچ میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں مدراس میڈیکل کالج سے ڈی جی او اور ایم ڈی کیا۔
انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز 1950 میں سندرگڑھ ڈسٹرکٹ اسپتال سے کیا اور بعد میں ایم کے سی جی میڈیکل کالج میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1986 میں ریٹائر ہوئیں۔
انہیں سابق وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے لیپروسکوپک سرجری کی تربیت مکمل کرکے وطن واپس آنے پر خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا تھا۔ انہوں نے بھارت میں اس طریقۂ علاج کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا، اور سینکڑوں کامیاب آپریشن کیے۔
ڈاکٹر بائی نے ایک سوال پر مسکراتے ہوئے کہا کہ “میری زندگی کا مقصد ہمیشہ شفا دینا تھا، اور میری یہ رقم میرے بعد بھی اسی مقصد کو پورا کرے گی۔
” انہوں نے وضاحت کی کہ رقم صرف اور صرف خواتین کے کینسر کی دیکھ بھال اور علاج پر خرچ کی جائے۔ ان کے سابق شاگرد، ڈاکٹر بھارتی اور ڈاکٹر بھارتی مشرا کے مطابق “یہ جذبۂ انسانیت کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔”
پڑوسیوں اور مقامی شہریوں نے ان کے اس فیصلے کو “انسانیت کے لیے عظیم تحفہ” قرار دیا ہے۔ 5 دسمبر 2025 کو، اپنی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر، وہ باضابطہ طور پر یہ عطیہ ایمس (AIIMS) کے حوالے کریں گی۔