شہریت ترمیمی قانون پر اب چار ہفتے بعد یعنی پانچویں ہفتہ میں سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے کا کہنا ہے کہ وہ نئی عرضیوں کے داخل ہونے پر روک نہیں لگا سکتے ہیں لیکن ہر کیس کے لیے اک وکیل کو ہی موقع ملے گا۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو دیے گئے نوٹس کا جواب ملنے کے بعد اب پانچویں ہفتہ میں سماعت ہوگی۔ دوسری طف آسام سے جڑی عرضیوں پر مرکزی حکومت کو دو ہفتے میں جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔









