مولانا سید ابولقاسم رضوی نے کہا: آج جو بچہ سوال کر سکتا ہے کل وہ دوسروں کو اپنے دین کے بارے میں جواب بھی دے سکے گا۔ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ دین کے بارے میں بچوں کے سوالات سے کترانے کے بجائے ان کے درست جواب دینے کے لئے خود اپنا علم بڑھائیں ۔ پیغام کربلا کا یہی ہےمٹا دو ظلم جہاں سے جہاں جہاں پہ ملے ۔ میرے خیال میں یہ بھی ہے انتقامِ حسین۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،میلبورن میں یکم محرم الحرام سے ۱۲ محرم الحرام تک اطفال کربلا کے عنوان سے روزانہ آن لائن مجالس کا سلسلہ کل اختتام پذیر ہوا۔
ان مجالس کا مقصد بچوں کی ذہنی فکری تربیت کی جائے اور ان میں پوشیدہ صلاحیتوں کو دریافت کیا جائے اور انھیں ایک باشعور و ذمہ دار و دیندار و متحرک عزادار بنایا جائے۔

اس پروگرام میں بچے قرآن مجید کی تلاوت، سلام ، مجلس ، نوحہ ، اذان ، دعا اور زیارت ان اکٹیویٹیز ( activities )میں حصہ لے رہے تھے اور بچے مولانا سے روزانہ سوالات کر رہے تھے جو پروگرام کی روح اور کشش کا سبب تھے اور لوگوں کے شبہات زائل ہوئے اور والدین بھی بہت توجہ سے جوابات سن رہے تھے اور اکثر والدین نے کہا کہ ان مجاکس میں کئے جانے والے سوالات کے جوابات سے ہمارے علم میں اضافہ ہوا جیسے معروف ادیب و مرثیہ نگار شاعر عرفی ہاشمی کے بقول آسٹریلیا کا بہترین اور منفرد عشرہ مجالس
خدا کرے یہ گلدستہ ہمیشہ یونہی مہکتا رہے

مشہور معالج ڈاکٹر حسنین رانا نے ان الفاظ میں اس کاوش کو سراہتے ہوئے کہا: سلامت رہیں قبلہ آپ کی اور ڈاکٹر ظفر کی سعی کا اجر پاک بی بی (س) عظیم تر قرار دیں ۔ ہماری نسلوں کی آبیاری میں آپ کی کوششیں قابل تحسین و قابل تقلید ہیں ۔جزاک اللہ
ساجد امام صاحب نے اسے قابل تقلید اور اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام قرار دیا؛
محترمہ ملیحہ نقوی نے ان الفاظ میں اس پروگرام کے انعقاد پر نہ کہ صرف شکریہ ادا کیا بلکہ کہا میں نے بچوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی اور سچ یہ ہے بچوں کے ساتھ ساتھ ہم نے بہت کچھ سیکھا؛









