القدس: قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے خلیجی ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ معاہدوں سے مسجد اقصٰی کی تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹیریسٹریئل یروشلم(ٹی جی) نامی این جی او کی ایک خصوصی رپورٹ میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے معاہدوں میں استعمال کی گئی زبان سے مسجد اقصی کے احاطے پر مسلمانوں کا مکمل اختیار ختم ہونے کی راہ نکلتی ہے۔









