فلپائن عسکری حکام کے مطابق دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں ایک انڈونیشین خاتون کو ملک کے جنوبی علاقے سے دو خواتین کے ہمراہ گرفتار کرلیا گیا۔
انڈونیشین شہری خاتون کی گرفتاری دو ماہ قبل فلپائن کے جنوبی علاقے میں واقع جزیرے پر دہشت گرد حملے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ جزیرے پر دو خودکش خواتین نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے دیا تھا جس کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک اور 74 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔
فلپائن جوائنٹ ٹاسک فورس نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ گرفتار خاتون کی شناخت ریزکی فنتاسیا کے نام سے ہوئی ہے۔ خاتون کا شوہر اگست میں فلپائن کے صوبے سولو میں ہلاک ہوا تھا۔
شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرفتار خاتون اُن دو دہشت گردوں کی بیٹی ہے جنہوں نے پچھلے سال جولو میں ایک گرجا گھر پر حملہ کیا تھا۔ دونوں حملہ آوروں کا تعلق شدت پسند گروہ ابو سیاف سے تھا۔
بریگیڈیئر جنرل ولیم گونزلز نے بتایا کہ “ہم اُن دو دہشت گروں کی تلاش میں ہیں جنہوں نے اگست میں جولو ٹاؤن میں دھماکے کیے”۔
انہوں نے بتایا کہ “ہمیں اطلاعات ملیں کہ ایک انڈونیشین شہری ملک میں بڑی دہشت گرد کارروائی کا ادارہ رکھتی ہے۔ تب سے خفیہ ادارے ریزکی فنتاسیا کا تعاقب کر رہے تھے”۔
عسکری حکام کا کہنا ہے کہ ریزکی فنتاسیا کے ہمراہ دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو شدت پسند گروہ ابو سیاف کے ارکان کی بیویاں ہیں۔
امریکا ابو سیاف کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ ابو سیاف کو فلپائن میں ہر دہشت گرد کارروائی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ ابو سیاف پر یہ بھی الزام ہے کہ تنظیم غیر ملکی سیاحوں اور عیسائی پادریوں کی اغوا میں ملوث ہے۔