آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کرو اور ان دونوں کے لیے نرم دلی سے پیش آو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو : اے میرے رب ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے رحمت و شفقت سے پالا تھا ۔

ایک روز ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ، لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے آپ نے فرمایا تمہاری والدہ۔ انہوں نے دوسری بار عرض کیا پھر کون ہے آپ نے فرمایا تمہاری والدہ اس شخص نے تیسری مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہ پھر کون ہے آپ نے فرمایا تمہاری والدہ اور انہوں نے جب چوتھی مرتبہ اسی سوال کو دہرایا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اس کے بعد تمہارا والد ہے۔









