سید ذیشان احمد
پچھلے دنوں جب میں دلی (یا دہلی) میں تھا تو میں نے ایک عجیب سی بات محسوس کی۔ وہ یہ کہ میں جب جب گلی قاسم جان (جو کہ بَلّی ماراں سے نکلتی ہے) میں ایک حویلی کے سامنے سے گزرتا تھا تو منہ پر یہ شعر خود بخود، باترنم آجایا کرتا:








