بنگلورو،:بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کرناٹک نے ہفتہ کو ریاستی اسمبلی انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرلی۔دوپہر ایک بجے تک ووٹوں کی گنتی کے رجحانوں میں میں کانگریس 127 سیٹوں پر آگے ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس نے بی جے پی سے اقتدار تقریباً چھین لیا ہے ۔ بی جے پی کی سیٹیں کم ہو کر 69 رہ گئی ہیں ، جبکہ جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) 25 سیٹوں پر آگے ہے ۔ کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے 113 سیٹوں کی ضرورت ہوگی، جس میں کانگریس آسانی سے اپنا ہدف پورا کرتی نظر آ رہی ہے ۔
یہ فیصلہ معلق اسمبلی کی پیش گوئی کرنے والے ایگزٹ پولز کے خلاف ہے ۔ زیادہ تر ایگزٹ پولز نے کانگریس کے لیے برتری کی پیش گوئی کی تھی اور کچھ نے بی جے پی کے لیے اکثریت کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن فیصلہ کانگریس کے حق میں آتا نظر آرہا ہے ۔
Congress party's victory is Karnataka's victory- a hard earned one!
Our guarantees for our people are the guiding force of our vision for the state and we shall get down to implementation right away.
This is a huge mandate for our leaders and workers who have worked hard for… pic.twitter.com/I9bQOiHm6B
— DK Shivakumar (@DKShivakumar) May 13, 2023
پارٹی شکست تسلیم کرتے ہوئے کرناٹک کے وزیر اعلی بسواراج بومئی نے کہا “ہم اپنے وزیر اعظم سے لے کر تمام بڑے لیڈروں کی بہت کوششوں کے باوجود اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ کانگریس اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ۔ مسٹر بومئی نے کہا کہ تمام نتائج آنے کے بعد پارٹی اپنی شکست کے بارے میں تفصیلی تجزیہ کرے گی اور خامیوں کو دور کرے گی اور مستقبل میں اس میں بہتری لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس نتیجہ سے سبق لیں گے اور ہم آگے بڑھیں گے اور پارٹی کی تنظیم نو کریں گے اور لوک سبھا انتخابات میں واپس آئیں گے ۔
ಧನ್ಯವಾದಗಳು ಕರ್ನಾಟಕ
Our heartfelt gratitude to the people of Karnataka, for placing your trust in the Congress party, for sticking to real issues, and for defeating hatred with love.
We promise to fulfill all our promises. pic.twitter.com/dNF1rlea2b
— Congress (@INCIndia) May 13, 2023
مرکزی وزیر راجیو چندر شیکھر نے کہا کہ پارٹی کانگریس کے حق میں فیصلے کا احترام کرتی ہے اور اسے قبول کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا، “ہم ایک تعمیری اپوزیشن کے طور پر اپنی ریاست اور اپنے لوگوں کے لیے اہم کردار ادا کریں گے ۔”
کرناٹک انتخابات میں ا پنے حق میں فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈروں نے بی جے پی کی شکست کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور وزیر اعظم کے خلاف سخت حملہ کیا۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلی بھوپیش بگھیل نے کہا کہ کرناٹک کے انتخابی نتائج ان کی توقعات کے مطابق ہیں اور خود کو سامنے رکھنے اور ووٹ مانگنے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی شکست ہے ۔
BIG BREAKING!
The BJP Education Minister BC Nagesh who enforced unjust Hijab/Headscarf ban and humiliated thousands of Muslim female students in Karnataka, & deprived them of Education, HAS LOST! 1/n pic.twitter.com/vGv4VFvXEX
— Waseem ವಸೀಮ್ وسیم (@WazBLR) May 13, 2023
وزیر اعلیٰ کے امیدوار سدارمیا نے کہا کہ وزیر اعظم مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاست کے سب سے قد آور بی جے پی لیڈر اور پارٹی کے صدر جے پی نڈا انتخابات میں زیادہ اثر نہیں ڈال سکے ۔ انہوں نے کہا ”میں (سدارمیا) کہہ رہا ہوں کہ وزیر اعظم مودی یا مرکزی وزیر داخلہ شاہ یا مسٹر نڈا کو جتنی بار چاہیں ریاست میں آنے دیں، لیکن کرناٹک کے ووٹروں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ لوگ بی جے پی کی بدعنوانی ،عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ہیں اور ان کی غلط حکمرانی سے تنگ آگئے ہیں۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ یہ یقینی ہے کہ کانگریس جیت گئی ہے اور مسٹر مودی ہار گئے ہیں۔