مولانا مدنی نے زور دے کر کہا کہ جب تک مغربی ایشیائی ممالک متحد ہو کر اپنی سرزمین سے امریکی اڈے نہیں ہٹاتے، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسد مدنی نے ایران پر حالیہ امریکی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب مغربی ایشیا میں خونریزی اور دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے جسے امریکا سے مکمل تحفظ مل رہا ہے۔ محمود اسد مدنی نے کہا کہ امریکہ نے اپنی جارحانہ پالیسیوں کے ذریعے دنیا کو مسلسل نقصان پہنچایا ہے اور مغربی ایشیا میں اس کی موجودگی ایک شفا بخش قوت سے زہر کا ذریعہ بن چکی ہے۔
مولانا مدنی نے زور دے کر کہا کہ جب تک مغربی ایشیائی ممالک متحد ہو کر اپنی سرزمین سے امریکی اڈے نہیں ہٹاتے، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بصورت دیگر پورا خطہ ان شیطانی سازشوں کا شکار ہوتا رہے گا جیسا کہ عراق، افغانستان اور لیبیا کے ساتھ ہوا اور اب وہی مذموم کھیل ایران کے خلاف دہرایا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی طاقتور ملک کو دنیا میں کہیں بھی اپنی صوابدید پر فوجی طاقت استعمال کرنے کا حق نہیں ہے۔ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ عالمی عدم اعتماد، نفرت اور عدم استحکام کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
انسانیت کو عالمی طور پر قبول شدہ اصولوں پر عمل کرنا چاہیے، اور کوئی بھی ایسا اقدام جو بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنائے، انسانی حقوق کو پامال کرے، اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالے، ناقابل قبول تصور کیا جائے۔ اس کا مقابلہ صرف سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ ٹھوس اقدام سے ہونا چاہیے۔