ممبئی : مہاراشٹر میں کانگریس نے ووٹنگ فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کو انتخابی دھاندلی قرار دیتے ہوئے ریاست کے وزیراعلیٰ سے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاستی کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعلیٰ کے اسمبلی حلقے میں محض پانچ ماہ میں ووٹر لسٹ میں 8 فیصد اضافہ درج کیا گیا، جبکہ بعض پولنگ بوتھوں پر یہ شرح 20 سے 50 فیصد تک پہنچ گئی۔
سپکال نے کہا کہ بوتھ لیول آفیسرز کی رپورٹوں کے مطابق کئی نامعلوم افراد نے ووٹنگ کی، اس کے باوجود الیکشن کمیشن خاموش تماشائی بنا رہا۔ انہوں نے اس پورے معاملے کو ووٹوں میں دھاندلی قرار دیا۔ سپکال کے مطابق، اس انتخابی بے ضابطگی کو چھپانے کے لیے الیکشن کمیشن نے مشین سے پڑھنے کے قابل ڈیجیٹل ووٹر لسٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کو جاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس سے عوام کو سچائی تک رسائی نہیں مل پائی۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ ان فہرستوں اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کو فوری جاری کیا جائے تاکہ دھاندلی کا ثبوت سامنے آ سکے۔ سپکال نے کہا، “اصل سوال یہ ہے کہ بی جے پی اتحاد، جس نے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کیا،
محض پانچ ماہ میں اسمبلی انتخابات میں زبردست جیت کیسے حاصل کر سکا؟ اس دوران بی جے پی نے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹر لسٹوں میں چھیڑ چھاڑ کی اور ووٹوں کی تعداد بڑھائی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آج تک الیکشن کمیشن نے ان بے ضابطگیوں کی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دی۔ اس کے برعکس، کمیشن نے معلومات تک رسائی کو محدود کرنے والے قوانین متعارف کیے اور یہاں تک کہ 45 دن کے بعد تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز کو حذف کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا، جسے سپکال نے “ووٹ کی دھاندلی کو چھپانے کی کوشش” قرار دیا۔