کشی نگر/بریلی/بہرائچ (یوپی): اتر پردیش کے مختلف اضلاع میں اتوار کو محرم کے جلوس سے متعلق واقعات میں کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔اس دوران دوران احتجاج اور جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔
بہرائچ میں محرم جلوس کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔محرم جلوس میں شامل لوگوں نے الزام لگایا کہ کچھ افسران نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور شیعہ عالم کی توہین کی۔ دوسری طرف بریلی میں محرم کے جلوس کے لیے بنائے گئے اسٹیج کی مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔
الزام ہے کہ محرم جلوس کے دوران کشی نگر کے شیو مندر کے پاس مبینہ طور پر اسلامی پرچم لہرایا گیا اور نعرے لگائے گئے۔پولیس کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے واقعے کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ مبینہ واقعہ کشی نگر کے کھڈا تھانہ علاقہ میں گلہریہ کے قریب پیش آیا۔
کھڈا پولیس اسٹیشن کے سربراہ ہرش وردھن سنگھ نے بتایا کہ اس واقعہ کے سلسلے میں کچھ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ٹیکوآٹار مارکیٹ میں ڈی جے میوزک پر دو گروپوں میں جھگڑا ہوا جس میں اخلاق نامی نوجوان کے سر میں چوٹیں آئیں۔
اس وقت ان کا علاج جاری ہے۔ رامکولہ کے ایس ایچ او آنند گپتا نے تصدیق کی کہ پولیس نے حالات کو قابو میں کر لیا ہے اور کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سنتوش کمار مشرا نے کہا کہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے دونوں جگہوں پر پولیس فورس کو تعینات کی گئی ہے۔ کشی نگر میں پولیس نے بتایا کہ دونوں جگہوں پر معمولی تنازعہ ہوا تھا، لیکن امن برقرار رکھنے کے لیے دونوں جگہوں پر کافی فورس تعینات کی گئی ہے۔
ادھر بہرائچ کے علاقے نانپارہ کوتوالی میں تنازعہ ہوا، جہاں محرم کے جلوس میں شریک لوگوں نے الزام لگایا کہ ایک پولیس اہلکار نے شیعہ عالم خامنہ ای کے پوسٹر کو ڈنڈے سے مارے اور پھر پوسٹر کو ہٹا دیا۔عقیدتمندوں نے الزام لگایا کہ انہوں خامنہ ای اور جلوس میں شامل لوگوں کو دہشت گرد کہا۔
مظاہرین نے جلوس کو کچھ دیر کے لیے روک دیا تاہم پولیس اور دیگر اہلکاروں کی مداخلت اور کارروائی کی یقین دہانی کے بعد جلوس دوبارہ شروع ہوا۔ پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ معاملہ حل ہو گیا ہے۔
جلوس پرامن طریقے سے نکالے گئے۔ آن لائن سامنے آنے والی ایک مبینہ ویڈیو میں، جلوس میں شامل لوگوں نے پولیس افسر کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ایک نوجوان نے کہا، انہوں نے ہمارے رہبر خامنہ ای صاحب کو دہشت گرد کہا گیا۔ کیا وہ دہشت گرد ہیں؟
بریلی میں اس مقام پر کشیدگی بڑھ گئی جہاں تعزیہ رکھا جانا تھا۔ سٹیج کی مبینہ طور پر توڑ پھوڑ کی گئی۔پولیس نے موقعہ پر پہنچ کر حالات کو پرامن کرایا اور مقدمہ درج کرلیا۔
تاہم تاجروں نے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیا اور خبردار کیا کہ جب تک گرفتاری نہیں ہوتی وہ وہاں سے تعزیہ نہیں اٹھانے دیں گے۔ اس دوران اعلیٰ حکام نے تاجروں کو کارروائی اور گرفتاریوں کی یقین دہانی کرائی۔
ایڈیشنل ایس پی نارتھ انشیکا ورما نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے فوری کارروائی کی اور دو خواتین اور تین دیگر ملزمان کو حراست میں لے لیا، جس کے بعد تاجر پرسکون ہوگئے۔
ورما نے کہا کہ یہ واقعہ سنیچر کی دیر رات فرید پور کے محلہ سہوکارا میں پیش آیا، جہاں شرپسندوں نے مبینہ طور پر اسٹیج کو نقصان پہنچایا اور ایک دکان کے شٹر کو توڑنے کی کوشش کی جہاں تازیہ رکھا جانا تھا۔
اتوار کی صبح کچھ تاجروں کی جانب سے مبینہ توڑ پھوڑ کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئے تھے۔ ورما نے کہا کہ اعلیٰ حکام کی جانب سے کارروائی کی یقین دہانی کے بعد ہی تعزیوں کو اٹھایا گیا۔