امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم تارکین وطن کے لیے حالات مزید پیچیدہ اور خطرناک ہوتے جا رہے ہیں اور ملک میں امیگریشن قوانین کو سخت تر بنانے کی نئی لہر میں امریکی حکومت نے نیا اصول نافذ کیا ہے جس کے تحت غیرقانونی مہاجرین کو صرف 6 گھنٹے کے اندر ملک بدر کیا جا سکے گا۔
اس سخت پالیسی کا نفاذ ایک عدالتی فیصلے کے بعد ممکن ہوا ہے جس نے ملک بدری کے موجودہ نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تازہ ترین عدالتی حکم کے بعد امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے اپنے عملے کو نئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ٹوڈ لیونز کی جانب سے جاری کردہ ایک اندرونی میمو کے مطابق اب ملک بدر کیے جانے والے افراد کو 24 گھنٹے کی مہلت کے بجائے صرف چھ گھنٹوں میں نکال دیا جائے گا۔
مزید برآں اگر کسی صورت حال کو ہنگامی قرار دیا جائے تو مہلت کا یہ دورانیہ اس سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ یعنی کسی بھی وقت بغیر طویل نوٹس یا تیاری کے افراد کو زبردستی ان کے آبائی یا کسی تیسرے ملک میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
اس نئی پالیسی کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیمیں اور امیگریشن سے وابستہ وکلا سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ ہزاروں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔
ان مہاجرین میں سے بیشتر ایسے حالات سے فرار ہو کر آئے ہیں جہاں انہیں سیاسی، مذہبی یا سماجی بنیادوں پر ظلم و ستم کا سامنا تھا اور اب انہیں بغیر مناسب سماعت یا قانونی مشورے کے واپس بھیجنے سے ان کی زندگیاں مزید خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کی سربراہ، ٹرینا ریلموٹو نے کہا ہے کہ یہ پالیسی دراصل انسانی ہمدردی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف چند گھنٹوں میں کسی کو زبردستی بےدخل کرنا قانونی عمل سے زیادہ، سیاسی دباؤ کی علامت ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی تنظیم اس فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرے گی تاکہ مہاجرین کو ان کا بنیادی انسانی حق دیا جا سکے۔
صورت حال کے برعکس حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قدم ملک کی سلامتی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ امیگریشن کے نظام میں موجود خامیوں کا فائدہ اٹھا کر لوگ طویل عرصے تک بغیر قانونی حیثیت کے ملک میں رہتے ہیں، جس سے وسائل پر دباؤ پڑتا ہے اور قانونی طور پر آنے والے افراد کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔
یہ نئی پالیسی امریکی سیاست میں امیگریشن کے حوالے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اس اقدام کو ملک کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف انسانی حقوق کے کارکنان اور سماجی تنظیمیں اسے ایک خطرناک رجحان تصور کر رہے ہیں۔