نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اڈیشہ میں ایک نوعمر لڑکی کی خود سوزی کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نظام کے ذریعہ قتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عصمت دری کرنے والوں کو پکڑنے کی اس کی درخواست سن لی جاتی تو یہ بیٹی آج ہمارے درمیان زندہ ہوتی۔
مسٹر راہل گاندھی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں کہا، “اڈیشہ میں انصاف کے لیے لڑنے والی بیٹی کی موت بی جے پی کے نظام کے ذریعہ براہ راست قتل ہے۔ اس بہادر طالبہ نے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھائی – لیکن انصاف دینے کے بجائے اسے دھمکیاں دی گئیں، ہراساں کیا گیا، اسے بار بار ذلیل کیا گیا۔”
انہوں نے طالبہ کی موت کے لیے بی جے پی حکومت کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ جن کو اس کی حفاظت کرنی تھی، وہی اسے دھماتے رہے۔ ہمیشہ کی طرح، بی جے پی کے نظام نے قصوروار ملزمان کو تحفظ فراہم کرنے کا کام کیا اور ایک معصوم بیٹی کو خود سوزی کرنے پر مجبور کیا۔
مسٹر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، “یہ خودکشی نہیں ہے، بلکہ بی جے پی کے نظام کے ذریعہ منظم قتل ہے۔
مودی جی، چاہے وہ اڈیشہ ہو یا منی پور – ملک کی بیٹیاں ہرجگہ جل رہی ہیں، ٹوٹ رہی ہیں، دم توڑ رہی ہیں۔ اور آپ؟ آپ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، ملک آپ کی خاموشی نہیں چاہتا، اسے جواب چاہیے، ہندوستان کی بیٹیاں سلامتی اور انصاف چاہتی ہیں۔”
واضح ر ہے کہ اڈیشہ کے بالاسور میں جنسی زیادتی کا شکار طالبہ نے خود سوزی کر لی تھی جس کے بعد اسے بھونیشور ایمس میں داخل کرایا گیا تھا جہاں اس کی موت ہو گئی۔