ٹرمپ انتظامیہ نے 10 ریاستوں میں امیگریشن عدالتوں کے 17 ججوں کو برطرف کر دیا
تنظیم نے کہا کہ جن ججوں کو برطرف کیا گیا ہے وہ کیلیفورنیا، الینوائے، لوزیانا، میری لینڈ، میساچوسٹس، نیویارک، اوہائیو، ٹیکساس، یوٹاہ اور ورجینیا کی امیگریشن عدالتوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے عمل میں تیزی لانے کے درمیان 10 ریاستوں میں امیگریشن عدالتوں کے 17 ججوں کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ ان ججوں کی نمائندگی کرنے والی ایک تنظیم نے یہ جانکاری دی۔
امیگریشن عدالتوں کے ججوں اور دیگر پیشہ ور افراد کی نمائندگی کرنے والی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف پروفیشنل اینڈ ٹیکنیکل انجینئرز نے ایک ریلیز میں کہا ہے کہ 15 ججوں کو جمعہ کو اور دو کو پیر کو “بغیر کوئی وجہ بتائے” برطرف کر دیا گیا۔
تنظیم نے کہا کہ جن ججوں کو برطرف کیا گیا ہے وہ کیلیفورنیا، الینوائے، لوزیانا، میری لینڈ، میساچوسٹس، نیویارک، اوہائیو، ٹیکساس، یوٹاہ اور ورجینیا کی امیگریشن عدالتوں میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
تنظیم کے صدر میٹ بگس کا کہنا تھا کہ ’’یہ انتہائی قابل مذمت اور مفاد عامہ کے خلاف ہے، ایک طرف پارلیمنٹ نے 800 امیگریشن ججوں کی تقرری کی منظوری دی ہے تو دوسری جانب بڑی تعداد میں امیگریشن ججوں کو بغیر کسی وجہ کے ہٹایا جارہا ہے، یہ لغو ہے…‘‘ ان ججوں کو ہٹانے کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کے تحت بڑی تعداد میں امیگریشن ججوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ تارکین وطن اور متاثرہ فریق عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔