برطانوی یوٹیوبر اور کامیڈین میکس فوش نے پرواز منسوخ ہو جانے کے بعد ایئرلائن سے 50 ڈالر کی رقم واپس لینے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور پیسے واپس لینے کے لیے اپنی ہی موت کا ڈرامہ رچا دیا۔
30 سالہ برطانوی سوشل میڈیا سٹار، جن کے فالوورز کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے، نے اپنے اس پیچیدہ منصوبے کی تفصیل پیر کو اپ لوڈ ہونے والی ایک ویڈیو میں بیان کی، جسے 20 لاکھ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
فوش نے ’میں تکنیکی اعتبار سے مر گیا‘ کے عنوان سے اپنی ویڈیو میں کہا: ’میں یہ مشن اس لیے شروع کر رہا ہوں کیوں کہ میں بہت چھوٹی چھوٹی باتوں پر اَڑ جاتا ہوں۔ یہ وہ اصول ہے جس کے ساتھ میں کسی بھی معاملے کو دیکھتا ہوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ دو ماہ پہلے انہوں نے ایک فلائٹ بک کرائی لیکن آخر کار وہ اس میں سوار نہیں ہو سکے اور جب انہوں نے رقم واپس لینے کی کوشش کی تو انہیں پتہ چلا کہ ’فضائی کمپنیاں ایک غیر متوقع قانونی شق استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔‘
میکس فوش نے بتایا کہ ’فضائی کمپنی صرف اسی صورت میں رقم واپس کرتی ہے جب مسافر وفات پا جائے، اس لیے مجھے مرنا پڑا۔ یہ ایک داستان ہے کہ میں کیسے کسی دوسرے ملک گیا۔ اپنی ہی آخری رسومات ادا کیں اور قانونی طور پر مردہ قرار پایا۔ سب کچھ صرف اس لیے کیا کہ بڑی فضائی کمپنی سے 37.28 پاؤنڈ (تقریباً 50 ڈالر) واپس لے سکوں۔‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی غیر ملکی حکومتوں سے رابطہ کیا، پھر آخرکار انہیں اٹلی کی سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سیبورگا، جو اپنے آپ کو خود مختار علاقہ کہلاتا ہے اور مغربی سرحد کے قریب ہے، سے جواب ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک آزاد ملک کی طرح اس قصبے کا اپنا جھنڈا، کرنسی اور حکومت ہے۔ اگرچہ اسے باقاعدہ آزاد ملک تسلیم نہیں کیا گیا، لیکن سیبورگا اور اس کے لوگ ہر روز اپنی آزادی اور قانونی حیثیت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔‘
اگرچہ انہوں نے فضائی کمپنی کا نام نہیں لیا لیکن بتایا کہ ان کی جدوجہد ’شاید شہزادی اور سیبورگا کی آزادی کی جدوجہد سے میل کھا گئی، اس لیے شہزادی نے خاص طور پر ایک مرتبہ کے لیے موت کا خصوصی سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔‘