جموں، (محمد اشرف گنائی): اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے بھارت-پاکستان کشیدگی اور 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد والدین سے محروم ہونے والے دو درجن بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔
اس بات کا اعلان کانگریس لیڈر اور جموں کشمیر پردیش کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے جموں میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ کے مطابق، راہل گاندھی پونچھ کے ایسے 22 بچوں کی تعلیم کا مکمل خرچ برداشت کریں گے جنہوں نے پاکستانی گولہ باری میں یا تو اپنے دونوں والدین یا گھر کے واحد کمانے والے فرد کو کھو دیا۔
طارق قرہ نے بتایا کہ بدھ کے روز مدد کی پہلی قسط جاری کی جائے گی تاکہ بچے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
راہل نے کہا مجھے تم پر فخر ہے
اُنہوں نے مزید کہا، ’’یہ امداد ان بچوں کے گریجویشن مکمل ہونے تک جاری رہے گی۔ راہل گاندھی نے مئی میں پونچھ کے دورے کے دوران پارٹی رہنماؤں کو متاثرہ بچوں کی فہرست تیار کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد ایک سروے کر کے حکومت کے ریکارڈز سے تصدیق کے بعد حتمی فہرست تیار کی گئی۔ راہل گاندھی نے ’کرسٹ پبلک اسکول‘ کا بھی دورہ کیا جہاں 12 سالہ جڑواں بہن بھائی، عروہ فاطمہ اور زین علی، حملے کا نشانہ بنے تھے۔
بچوں سے بات کرتے ہوئے راہل نے کہا، ’’مجھے تم پر فخر ہے۔ میں جانتا ہوں تم اپنے دوستوں کو یاد کرتے ہو۔ مجھے بہت افسوس ہے۔ تم شاید ڈرے ہوئے ہو، لیکن فکر نہ کرو، سب کچھ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ تمہیں خوب دل لگا کر پڑھنا ہے، کھیلنا ہے، اور اسکول میں نئے دوست بنانے ہیں۔
راہل گاندھی کا یہ اقدام متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی کرن
پونچھ شہر سرحد پار گولہ باری سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے۔ ایک دینی مدرسے، ’’ضیاء العلوم‘‘ پر ہونے والی گولہ باری میں نصف درجن سے زائد بچے زخمی ہوئے، جب کہ ایک کمسن طالب علم ویہان بھارگو شیل لگنے سے اس وقت ہلاک ہو گیا۔ جب اُس کا خاندان شہر چھوڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔
راہل گاندھی کا یہ اقدام متاثرہ خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن بن کر سامنے آیا ہے، جسے مقامی سطح پر خوب سراہا جا رہا ہے۔ کانگریس صدر طارق حمید قرہ نے اس پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا کہ 5 اگست کو “یوم سیاہ” کے طور پر منایا جائے گا اور ماہ راجہ ہری سنگھ پارک میں ایک بڑا دھرنا دیا جائے گا۔
ریاستی درجے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا
اُنہوں نے مزید کہا کہ “تمام ضلعی ہیڈکوارٹرس پر بھی ریاستی درجے کے لیے دباؤ ڈالا جائے گا۔ طارق حمید قرہ نے مزید اعلان کیا کہ یکم اگست سے ایک عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے گی تاکہ ریاستی درجے کی بحالی کے لیے عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ 9 اگست، کو کانگریس پارٹی سری نگر اور جموں کے ہیڈکوارٹرز پر ایک روزہ بھوک ہڑتال کا آغاز کرے گی جو 20 اگست (سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کی سالگرہ) تک جاری رہے گی۔ تاہم، 15 اور 16 اگست کو احتجاج سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔