نئی دہلی : سنیہا شرما آج ہندستان کی صفِ اول کی خواتین ریسنگ ڈرائیورز میں شمار ہوتی ہیں، جو باقاعدگی سے قومی کارٹنگ اور ریسنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیتی ہیں۔ ہندستانی ریسنگ ڈرائیور سنیہا جو فارمولا- 4- نیشنل ریسنگ چیمپئن شپ کے لئے جانی جاتی ہیں، نے مختلف زمروں میں ریسنگ کر کے خود کو ہندستانی موٹر اسپورٹس کی دنیا میں ایک باوقار مقام دلایا ہے۔
ان کا یہ سفر ایک ایسے لمحے سے شروع ہوا جب انہوں نے نئی راہ تلاش کرنے کی ہمت کی، اور موٹر اسپورٹس میں اپنی جگہ بنا لی۔سنیہا صرف ایک ریسنگ ڈرائیور نہیں، وہ حوصلے، محنت، اور جنون کی مثال ہیں۔ ان کا یہ سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر جذبہ سچا ہو، تو نہ وسائل کی کمی رکاوٹ بنتی ہے اور نہ ہی صنفی امتیاز۔
سنیہا شرما کی پیدائش یکم اگست 1990 کو کولکتہ میں ہوئی۔ ہائی اسکول اور فلائنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے، سنیہا نے 17 سال کی عمر میں ایم آر ایف نیشنل کارٹنگ چیمپئن شپ میں مقابلہ کیا۔انہوں نے اپنی تعلیم ممبئی کے کینوسا کانوینٹ اسکول سے مکمل کی اور فلائنگ ٹریننگ سان فرانسسکو (امریکہ)، میامی (امریکہ) اور کوالالمپور (ملائیشیا) سے حاصل کی۔
سنیہا کا بچپن ممبئی میں گزرا اور وہ وہیں پلی بڑھیں۔ ان کی محنت اور لگن نے انہیں نہ صرف ریسنگ کے میدان میں بلکہ ہوابازی کے شعبے میں بھی نمایاں مقام دلایا۔ ان کی لگن اتنی گہری تھی کہ اسکول جاتے وقت وہ ناشتہ چھوڑ دیتی تھیں تاکہ وقت اور پیسے بچا کر ٹریک پر مشق کر سکیں۔ ان کی یہ محنت اور جنون انہیں ہر دن ان خواب کے قریب لے جا رہا تھا۔
سنیہا شرما نے محض 16 سال کی عمر سے ریسنگ کا آغاز کیا۔ 17 سال کی عمر میں، جب وہ ہائی اسکول اور فلائنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں، انہوں نے ایم آر ایف نیشنل کارٹنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیا۔ سال 2010 میں انہوں نے کارٹنگ سے باقاعدہ ریسنگ کاروں کی طرف قدم بڑھایا اور جے کے ٹائر نیشنل ریسنگ چیمپئن شپ میں بھی حصہ لیا۔
پووائی (ممبئی) میں واقع اب بند ہو چکا ریس ٹریک سنیہا شرما کے ابتدائی خوابوں کی بنیاد تھا۔ یہاں پر میلوں کی پریکٹس اور تکنیکی علم حاصل کرنے کے بعد، سنیہا نے ہندستان بھر میں چھوٹی چھوٹی چیمپئن شپ میں حصہ لینا شروع کیا۔انہی مقابلوں میں ایک موقع پر وہ معروف سابق ریسنگ ڈرائیور ریومند بنجی کی نظر میں آئیں، جو اب ریو ریسنگ کارٹنگ اسکواڈ چلا رہے تھے۔
بنجی ان کی مہارت سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ نیشنل کارٹنگ چیمپئن شپ میں حصہ لیں۔ سنیہا نے یہ مشورہ قبول کیا اور پہلی بار ایک مکمل پیشہ ورانہ سیریز میں قدم رکھا۔ لیکن جیسے ہی وہ ریسنگ میں آگے بڑھنے کے لیے تیار ہو رہی تھیں، ان کی تعلیم اور کیریئر نے انہیں ایک مختلف راستے پر ڈال دیا۔
سنیہا ہمیشہ کچھ نیا کرنے کی تلاش میں رہتی تھی۔ انہیں رفتار، سائیکلنگ اور ہر وہ چیز پسند تھی جس میں ایڈونچر موجود ہو۔جب انہوں نے پہلی بار کارٹ میں بیٹھ کر ٹریک پر دوڑ لگائی تو انہیں فوری طور پر اس سے محبت ہو گئی۔
اس دن انہوں نے سب سے تیز ترین لیپ ٹائم ریکارڈ کیا۔انہیں رفتار اور ایڈرینالین کا وہ احساس بہت پسند آیا۔ اسکول کی چھٹی والے دن میں وہیں وقت گزارتی، اپنا جیب خرچ اور لنچ کے پیسے چار لیپ مکمل کرنے کے لیے خرچ کر دیتی تھی۔
شروع میں سنیہا کے لیے ریسنگ صرف تفریح کا ذریعہ تھی، لیکن ایک دن جب انہوں نے قومی سطح کے کارٹنگ ڈرائیورز کو اسی ٹریک پر دوڑتے دیکھا، جہاں وہ مشق کیا کرتی تھیں، تو ان کے اندر پیشہ ور ریسنگ کا شوق جاگ اٹھا۔دسویں جماعت کے بعد انہوں نے دو لوگوں کو ٹریک پر بہت مہارت سے ڈرائیو کرتے دیکھا۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔
میکینکس جو ایک نیشنل چیمپئن شپ کے ڈرائیورہیں ، سنیہا نے ان سے کہا کہ میں سیکھنا چاہتی ہوں۔ حالانکہ ان کا موٹر اسپورٹس سے کوئی تعلق نہیں تھا، تو ان کے لئے پہلے استاد یہی میکینکس تھے۔
انہوں نے اپنی جیب خرچ سے ایک کو ادائیگی کی اور کارنرنگ، بریکنگ اور ریسنگ لائنز جیسے بنیادی اسباق سیکھے۔ وہ روزانہ ٹریک پر گھنٹوں پریکٹس کرتی، انجن کے بارے میں بات کرتی، ٹوننگ سیکھتی، اور ہر دن کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرتی۔
وہ 17 سال کی عمر میں فلائنگ کورس کے لیے کیلیفورنیا، امریکہ گئی۔ اُس وقت انہوں نے سوچا کہ شاید ان کا ریسنگ کیریئر ختم ہو چکا ہے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن وہ یہاں تک پہنچ جائیں گی،
لیکن دل میں یہی خواہش تھی کہ واپس آ کر پھر سے ریسنگ شروع کریں۔ایک سال بعد جب وہ ہندستان واپس آئیں، تو انہیں ایک شاندار فلائنگ جاب ملی، لیکن ان کا موٹر اسپورٹس کا جنون انہیں واپس ٹریک پر کھینچ لایا۔