لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف انتخابی مسئلہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت، آئین اور ‘ایک شخص، ایک ووٹ’ کے اصول کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن جنگ ہے۔
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ 17 اگست کو وہ اپنی ‘ووٹر رائٹس یاترا’ کے ذریعے مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف بہار کی سرزمین سے سیدھی لڑائی شروع کریں گے۔
لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ یہ صرف انتخابی مسئلہ نہیں ہے بلکہ جمہوریت، آئین اور ‘ایک شخص، ایک ووٹ’ کے اصول کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن جنگ ہے۔
راہل گاندھی نے ‘X’ پر لکھا، 17 اگست سے ووٹر رائٹس یاترا کے ساتھ، ہم بہار کی مٹی سے ووٹ چوری کے خلاف سیدھی لڑائی شروع کر رہے ہیں۔ یہ صرف انتخابی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ جمہوریت، آئین اور ‘ایک شخص، ایک ووٹ’ کے اصول کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن جنگ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پورے ملک میں صاف ووٹر لسٹ تیار نہیں ہو جاتی۔ نوجوان، مزدور، کسان، ہر شہری اٹھیں اور اس عوامی تحریک میں شامل ہوں۔ راہل گاندھی نے کہا، اس بار ووٹ چوروں کی ہار- عوام کی جیت، آئین کی جیت۔
کانگریس کے سابق صدر اور حزب اختلاف کے اتحاد ‘انڈیا (انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلوسیو الائنس)’ کی کئی دیگر اتحادی جماعتوں کے قائدین ووٹر لسٹ کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) اور مبینہ ‘ووٹ چوری’ کے خلاف 17 اگست سے ‘ووٹر رائٹس یاترا’ شروع کریں گے۔
یہ یاترا ساسارام سے شروع ہوگی اور یکم ستمبر کو پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں ‘ووٹر رائٹس ریلی’ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگی۔ ‘انڈیا الائنس’ کے قومی سطح کے لیڈر اس جلسہ عام میں شامل ہوسکتے ہیں۔