لبنان پر سفارتی دباؤ، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ ناقابل عمل
مبصرین کے مطابق حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا امریکی-صہیونی-سعودی منصوبہ ناقابل عمل اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جاسکتا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: گذشتہ کئی ہفتوں سے لبنانی مقاومتی تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی خبریں ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ لبنانی حکومت نے یہ منصوبہ پیش کیا ہے تاہم لبنانی مقاومت نے بیرونی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے جھکنے سے مکمل انکار کرتے ہوئے حکومتی فیصلہ مسترد کردیا ہے۔
مبصرین کے مطابق حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا فیصلہ لبنانی نہیں بلکہ امریکی اور سعودی منصوبہ ہے۔ جوزف عون، نواف سلام اور کچھ سیاسی و میڈیا شخصیات دراصل امریکہ کے آلہ کار ہیں جو اس منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ شیعہ اراکین کی کابینہ کے اجلاس سے واک آؤٹ کرنے کی وجہ سے اس فیصلے کو قومی اجماع حاصل نہیں، اس لیے یہ ناقابل عمل ہے۔
ماہرین نے کہا کہ حزب اللہ کا اسلحہ صرف لبنان ہی نہیں بلکہ ایران، فلسطین اور پورے خطے کو صہیونی قبضے سے محفوظ رکھتا ہے، اور لبنان آج بھی خطے کے مسائل میں مرکزیت رکھتا ہے۔ اسی پس منظر میں مہر خبررساں ایجنسی نے “حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی حکمت عملی اور لبنان کا مستقبل” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی نشست کا انعقاد کیا جس میں ایرانی، یمنی اور لبنانی ماہرین نے شرکت کی۔
اس نشست میں احمد دستمالچیان (سابق ایرانی سفیر لبنان و اردن)، محمد خواجویی (گروپ مطالعات لبنان، مشرق وسطی ریسرچ سینٹر)، محمد علی حسن نیا (ماہر امورِ عرب)، محمد صرفی (ایڈیٹر روزنامہ تہران ٹائمز)، محمدرضا مرادی (ڈائریکٹر جنرل بین الاقوامی امور مہر نیوز)، زینب فرحات (صحافی، ٹی وی چینل نبا لبنان)، ڈاکٹر علی احمد (ماہر امور سیاسی لبنان) اور احمد عبدالوهاب الشامی (صحافی، المسیرہ چینل یمن) شامل تھے۔ ایرانی ماہرین نے بالمشافہ اور غیرملکی ماہرین نے آن لائن اس نشست میں شرکت کی۔
حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا معاہدہ طائف کی خلاف ورزی ہے
محمدرضا مرادی نے اس نشست میں کہا کہ لبنانی کابینہ نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ ایسے حالات میں پیش کیا ہے کہ ماہرین اسے دو دھاری تلوار سمجھتے ہیں جو ملک کے امن و استحکام کو نشانہ بناسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی بات جبکہ جنوب لبنان کے پانچ علاقے اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہیں اور وہاں کے شیعہ باشندے صہیونی حملوں کی زد میں ہیں، ایک خطرناک سوچ ہے۔