پالگھر: مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے ویرار میں ایک کثیر منزلہ رہائشی بلڈنگ کے انہدامی حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ملبے سے مزید تین لاشیں نکالی ہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے بتایا کہ منہدم ہونے والی غیر قانونی چار منزلہ عمارت میں تقریباً 50 فلیٹ تھے۔ یہ عمارت بدھ کی صبح 12.05 بجے ویرار علاقے کے وجے نگر میں ایک متصل خالی مکان پر گر گئی۔
بلڈنگ کی چوتھی منزل پر ایک سالہ بچی کی سالگرہ تقریب منائی جا رہی تھی کہ عینی شاہدین کے مطابق عمارت کے ایک ونگ میں 12 فلیٹ منہدم ہوگئے جس کی وجہ سے رہائشی اور مہمان سبھی ملبے تلے دب گئے۔
پالگھر ڈسٹرکٹ کلکٹر ڈاکٹر اندو رانی جاکھڑ نے جمعرات کی صبح پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اس واقعے میں مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور دیگر امدادی ٹیموں کی طرف سے ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی اور شخص ملبے کے نیچے دبا نہ ہو۔
این ڈی آر ایف نے اپنی 5ویں بٹالین سے دو ٹیمیں جائے وقوع پر تعینات کی ہیں۔ این ڈی آر ایف کے ڈپٹی کمانڈر پرمود سنگھ کے مطابق، “این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں (ایک ممبئی سے اور ایک پالگھر سے) جائے حادثہ پر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ ادارے کو جیسے ہی صبح 12 بجے حادثے کی اطلاع ملی، قریبی ٹیم کو فوراً روانہ کر دیا گیا۔”
وہیں فائر بریگیڈ اور مقامی پولیس اہلکار بھی این ڈی آر ایف ٹیموں کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ حکام نے بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں اور آس پاس کی عمارتوں کو احتیاطاً خالی کرا لیا گیا ہے اور ان کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ یہ عمارت دس سال پرانی تھی اور اسے غیر قانونی طریقے سے بنایا گیا تھا۔ شکایت درج ہونے کے بعد پولیس نے غیر قانونی عمارت بنانے والے بلڈر کو گرفتار کر لیا ہے۔
حادثے کو تقریباً 30 گھنٹے گزر چکے ہیں اور مقامی انتظامیہ اور پولیس بشمول این ڈی آر ایف کی ٹیمیں راحت رسانی اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔ وسائی ویرار میونسپل کارپوریشن (VVMC) نے کہا کہ چھ افراد اب بھی علاقے کے مختلف اسپتالوں اور ممبئی کے نالاسوپارہ میں زیر علاج ہیں۔ تین دیگر کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔
مرنے والوں میں سے کچھ افراد کی شناخت بھی کی جا چکی ہے جن میں سے آروہی اونکار جوول (24)، ان کی ایک سالہ بیٹی اتکرشا جوول، لکشمن کسکو سنگھ (26)، دنیش پرکاش سپکال (43)، سپریا نوالکر (38)، ارنب نوالکر (11) اور پاروتی سپکال کے طور پر کی گئی ہے۔
وہیں ضلع کلکٹر اندو رانی جاکھڑ نے کہا کہ ملبے تلے ابھی کچھ اور لوگ دبے ہو سکتے ہیں۔ پالگھر کے ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ آفیسر وویکانند کدم نے کہا کہ خوش قسمتی سے جس مکان پر یہ بلڈنگ گری وہ خالی تھا۔
کدم نے کہا کہ سنہ 2012 میں بنائے گئے رمابائی اپارٹمنٹ (منہدم بلڈنگ) میں 50 فلیٹ ہیں اور منہدم ہونے والے حصے میں 12 اپارٹمنٹس تھے۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک خاندان اپنی معصوم بیٹی کی پہلی سالگرہ منا رہا تھا۔ کیک کاٹنے کے فوراً بعد عمارت گر گئی اور ماں بیٹی کی موقعے پر ہی موت ہو گئی، باپ کا تاحال کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔