بین الاقوامی امدادی بیڑے “صمود” کے رکن نے مہر نیوز سے گفتگو میں عزم ظاہر کیا ہے کہ غزہ کا محاصرہ توڑنا ہے، اسرائیلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ پر جاری صہیونی جارحیت نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔ دنیا بھر میں عوامی اور سماجی تنظیمیں فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں۔ غزہ کے سخت محاصرے کو توڑنے کے لیے مختلف سطحوں پر عملی کوششیں جاری ہیں جن میں امدادی کشتیوں کی روانگی بھی شامل ہے۔ انہی کوششوں کے دوران “میڈلین” کشتی صہیونی حملے اور قبضے کا نشانہ بنی، تاہم اس کے باوجود عالمی یکجہتی پر مبنی مزید امدادی مہمات جاری ہیں اور مختلف ممالک سے سرگرم کارکن غزہ کے عوام تک ادویات، خوراک اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی بین الاقوامی بیڑا “صمود” کی روانگی ہے۔ کشتی پر سوار امدادی اور سماجی کارکن صہیونی محاصرہ توڑ کر غزہ پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ بھوک اور قحطی کا شکار فلسطینیوں کی مدد کی جاسکے۔









