سیتا پور: اترپردیش کے سیتا پور ضلع میں ایک بندر چارپائی پر سوئے ہوئے دو ماہ کے شیر خوار بچے کو اٹھا لے گیا۔ بعد ازاں جب تلاش کی گئی تو بچے کی لاش چھت پر رکھی پانی کی ٹینک سے برآمد ہوئی۔ بچے کی لاش دیکھ کر والدین زار و قطار رونے لگے۔
پورے گاؤں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ اطلاع ملنے پر پہنچی پولیس نے اہل خانہ سے واقعے کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ یہ واقعہ سیتا پور ضلع کے مچھرہٹا تھانہ حلقے کے سورج پور گاؤں کا ہے۔
جانکاری کے مطابق سورج پور گاؤں کے رہنے والے انوج کمار کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ ان کی بیوی سویتا ایک گھریلو خاتون ہیں۔ انوج اور سویتا کی شادی تقریباً ڈیڑھ سال قبل ہوئی تھی۔
تقریباً دو ماہ قبل دونوں کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ انوج نے بتایا کہ جمعرات کی صبح وہ پڑوس میں بن رہے گھر میں کام کے سلسلے میں مزدوروں سے ملنے گیا تھا۔ بیوی سویتا نے بیٹے کو چارپائی پر سلا کر نہانے چلی گئی۔ جب وہ نہا کر باہر آئی تو بچہ چارپائی پر نہیں تھا۔
سویتا نے فوراً اپنے شوہر انوج کو فون کیا اور بتایا کہ وہ بچہ غائب ہے۔ انوج جلدی سے اپنے گھر پہنچا اور میاں بیوی مل کر بچے کو ڈھونڈنے لگے۔ تاہم وہ کسی کمرے میں نہیں ملا۔
انوج نے کہا کہ اس کے بعد میں چھت پر چلا گیا۔ وہاں مجھے بیٹے کی لاش پانی کے ڈرم میں تیرتی ہوئی ملی۔ اس کے بعد ہم بچے کو لے کر سی ایچ سی گئے، جہاں ڈاکٹر نے معائنے کے بعد بچے کو مردہ قرار دے دیا۔
انوج نے بتایا کہ بیٹے کو پیدائش سے ہی انکمپلیٹ اسکن لاس کی بیماری تھی، جس کا علاج لکھنؤ کے ٹراما سینٹر میں چل رہا تھا۔ اہل خانہ نے پولیس کو بتائے بغیر معصوم بچے کی تدفین کر دی۔
جمعہ کو جب مقامی لوگوں کو پتہ چلا تو یہ معاملہ سامنے آیا۔ بیماری کی وجہ سے بچے کا ابھی تک کوئی نام نہیں رکھا گیا تھا۔
انچارج انسپکٹر پربھات کمار نے بتایا کہ متوفی شیرخوار کے باپ گھر کے باہر بجلی کی دکان چلاتے ہیں۔ ان سے واقعے کے تعلق سے تفصیلی جانکاری لے لی گئی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا تھا کہ بندر گھر میں آتے رہتے ہیں۔
وہی بندر بچے کو اٹھا لے گئے جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اہل خانہ کی جانب سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ پولیس نے بیان درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔