اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزارت خزانہ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو نے تسلیم کیا کہ ’اسرائیل ایک طرح سے تنہائی کا شکار ہے۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو 15 ستمبر 2025 کو یروشلم میں وزارت خارجہ میں امریکی قانون سازوں کے ایک دو طرفہ وفد کے ارکان سے بات کر رہے ہیں (اے ایف پی)
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے پیر کو اعتراف کیا کہ اسرائیل کو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا ہے اور اسے آنے والے سالوں میں مزید خود انحصار بننا پڑے گا۔
اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی وزارت خزانہ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو نے تسلیم کیا کہ ’اسرائیل ایک طرح سے تنہائی کا شکار ہے۔
سات ستمبر 2023 سے غزہ میں شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران اسرائیل فلسطینی علاقے کے کئی حصوں پر فضائی اور زمینی حملے کر چکا ہے، جن میں 64 ہزار سے زیادہ اموات ہوئی ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے محاصرے کی وجہ سے وہاں جلد ہی قحط جیسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے بعض یورپی ممالک نے نہ صرف تل ابیب کے حملوں کی مذمت کی ہے بلکہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ پر حملوں کے بعد سے اسرائیل کو دو نئے خطرات کا سامنا ہے، جن میں مسلم اکثریتی ممالک سے ہجرت کے نتیجے میں یورپ میں آبادیاتی تبدیلیاں اور نئی ٹیکنالوجیز کی مدد سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اسرائیل کے مخالفین کا اثر و رسوخ میں اضافہ شامل ہیں۔
ان کے خیال میں یہ چیلنجز طویل عرصے سے کار فرما تھے، لیکن سات اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل میں حماس کے حملوں سے شروع ہونے والی جاری جنگ کے دوران سامنے آئے۔
نتن یاہو نے یورپ میں آبادیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ’لامحدود ہجرت‘ کے نتیجے میں مسلمان ایک ’اہم اقلیت – پر اثر آواز رکھنے والے، بہت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کرنے والے‘ بن گئے ہیں۔