برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد یورپی ملک پرتگال نے بھی فلسطین کو باضابطہ طور پر بحیثیت خود مختار ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پرتگالی وزیر خارجہ پاؤلو رینگل نے پیر کو شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ ’اس لیے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنا ایک بنیادی، مستقل اور وسیع پیمانے پر متفقہ پالیسی کی تکمیل ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پرتگال دو ریاستی حل کو منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ قرار دیتا ہے، جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بقائے باہمی اور پرامن تعلقات کو فروغ دیتا ہے۔‘
فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) نے 1988 میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا اعلان کیا تھا اور زیادہ تر عالمی جنوبی ملکوں نے اسے جلد ہی تسلیم کر لیا۔
اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے تقریباً 150 نے فلسطینی ریاست کی خود مختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔
اسرائیل کا اہم اتحادی امریکہ طویل عرصے سے کہہ رہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے مقصد کی حمایت کرتا ہے لیکن واشنگٹن ایسا فلسطینیوں کے اسرائیل کے ساتھ دو ریاستی حل پر رضامندی کے بعد ہی کرنے کا حامی ہے۔
حالیہ ہفتوں تک بڑی یورپی طاقتیں امریکہ کے ساتھ اس پوزیشن میں شریک تھیں۔
تاہم 2014 کے بعد سے ایسے کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں اور اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے اب کہا ہے کہ کبھی بھی فلسطینی ریاست نہیں ہو گی۔
ریاست فلسطین کی نمائندگی کرنے والے وفد کو اقوام متحدہ میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ لیکن ووٹنگ کا کوئی حق حاصل نہیں۔ چاہے کتنے ہی ملک فلسطین کی آزادی کو تسلیم کریں، اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کے لیے سلامتی کونسل کی منظوری درکار ہو گی، جہاں واشنگٹن کو ویٹو کا حق حاصل ہے۔
اس سے قبل برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا نے اتوار کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا، جو دہائیوں پر محیط مغربی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی تصور کی جا رہی ہے اور جس پر اسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔
چار مغربی ممالک کے فیصلے نے، جو روایتی طور پر اسرائیل کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں، ان کو 140 سے زیادہ دیگر ممالک کے ساتھ جوڑ دیا، جو مقبوضہ علاقوں سے آزاد وطن کے قیام کے لیے فلسطینیوں کی خواہش کی حمایت کرتے ہیں۔
برطانیہ اور کینیڈا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے پہلے جی-سیون ممالک بن گئے ہیں۔
پرتگال نے اسی روز اعلان کیا تھا کہ وہ 21 ستمبر کو فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لے گا۔
توقع ہے کہ فرانس اور دیگر ممالک پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں اسی راہ پر چلیں گے۔