ڈان نیوزمیں شائع خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ قدیم مجسمہ فرعون تحتمس سوم (1479 تا 1425 قبلِ مسیح) کے دور کے ایک اعلیٰ اہلکار کی شبیہ پیش کرتا ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مجسمہ 2011 کی عرب بہار کے دوران ہونے والی بدامنی میں چوری ہو کر غیر قانونی طور پر ملک سے باہر اسمگل کیا گیا تھا اور بعد ازاں بین الاقوامی آرٹ مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کی گئی۔Copyright Dailyaag - All Rights Reserved