نئی دہلی : سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے پیر کو کہا کہ آج سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں ووٹرز لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) سب سے بڑا موضوع ہوگا۔
مسٹر یادو نے یہاں پارلیمنٹ کمپلیکس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا سب سے اہم معاملہ ایس آئی آر ہی ہے۔ جب سے بہار میں ایس آئی آر چل رہا تھا، حکومت میں بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ دراندازوں کی بات کر رہے تھے۔ ان کی نیت یہ ہے کہ کچھ جائز ووٹرز کے نام حذف کردو اور کہہ دو کہ وہ درانداز ہیں۔ ہم ایسا ہرگز ہونے نہیں دیں گے۔”
انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اپوزیشن کی درخواست پر انتخابی کمیشن نے ایس آئی آر کی مدت بڑھا دی ہے، لیکن حکومت جو دکھا رہی ہے، زمینی حقیقت سے بالکل مختلف ہے۔
سماج وادی پارٹی رکن پارلیمنٹ نے کہا اٹاوہ میں تمام لوگوں کو سی کیٹیگری میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہم کب سے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اٹاوہ ضلع سے سات لوک سبھا اراکین سماج وادی پارٹی کے ہیں، ایک میں خود رکن راجیہ سبھا ہوں اور تین ایم ایل اے ہیں۔ سب سی کیٹیگری میں ہیں، یعنی ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔”
انہوں نے الزام لگایا کہ لوگوں کے نام من مانی طریقے سے ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں اور انہیں سہولیات سے محروم کیا جا رہا ہے۔ مؤ میں 20 ہزار لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے ہیں۔ یہ ایک سازش ہے، جس کے خلاف سماج وادی پارٹی پوری طاقت سے لڑ رہی ہے۔
حکومت کے اس دلیل پر کہ انتخابی کمیشن کے کام پر پارلیمنٹ میں بحث نہیں ہو سکتی، مسٹر یادو نے کہا کہ یہ صرف بہانہ ہے، انتخابی کمیشن پر پہلے بھی کئی بار پارلیمنٹ میں بحث ہو چکی ہے۔