نئی دہلی : جنوبی ہندوستان کے سپر اسٹار رجنی کانت ہندستانی فلم انڈسٹری کی تاریخ کی سب سے بڑی اور اثر انگیز شخصیات میں سے ایک ہیں۔ رجنی کانت صرف ایک اداکار ہی نہیں بلکہ ایک کلچرل آئیکون ہیں۔ ان کا اسٹائل، ڈائیلاگ ڈیلیوری اور منفرد اسکرین پریزنس نے انہیں دنیا بھر میں مقبول بنایا ہے۔
ان کی زندگی جدوجہد، محنت، کامیابی اور سے بھرپور ہے۔ رجنی کانت کا اصل نام شیواجی راؤ گائیکواڑ ہے۔ ان کی پیدائش 12 دسمبر 1950 کو بنگلورو، کرناٹک میں ہوئی۔ پیشہ سے وہ فلم اداکار، سیاست داں، اسکرین رائٹر ہیں۔
رجنی کانت ایک عام خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد پولیس میں کانسٹیبل تھے اور گھر کا معاشی حال بہت بہتر نہیں تھا۔کم عمری میں ہی انہوں نے کئی ملازمتیں کیں، جس میں کارپنٹر، کلرک اور آخرکار بس کنڈکٹر ، جس کی وجہ سے وہ کافی مشہور بھی ہوئے، شامل ہیں۔
رجنی کانت کی زندگی ایک مثال ہے کہ محنت، جدوجہد اور لگن انسان کو کہاں سے کہاں لے جا سکتی ہے۔ایک بس کنڈکٹر سے ایشیا کے سب سے بڑے سپر اسٹار تک کا یہ سفر حیرت انگیز ہے۔ اسی دوران وہ تھیٹر ڈراموں میں حصہ لیتے رہے۔ وہ بچپن سے ہی فلم اداکار بننا چاہتے تھے۔ ان کے دوستوں نے انہیں مدراس فلم انسٹی ٹیوٹ میں داخلے کا مشورہ دیا ۔ وہیں سے ان کی زندگی بدل گئی۔
دریں اثنا، تامل فلموں کے مشہور ڈائریکٹر کے بال چندر نے ایک ڈرامہ میں رجنی کانت کی کارکردگی دیکھی جس سے وہ بہت متاثرہوئے۔ سال 1975میں کے بال چندر کی ہدایت میں بنی تمل فلم اپوروا رنگاگل سے رجی کانت نے اپنی فلمی کیریر کی شروعات کی۔
اس فلم میں کمل ہاسن نے اہم کردار ادا کیا تھا۔سال 1978 میں آئی فلم بھیروی میں رجنی کانت کو کلیدی رول ادا کرنا کا پہلا موقع ملا۔ یہ فلم باکس آفس پر سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم کے ساتھ ہی رجنی کانت بھی سپر اسٹار بن گئے ۔اس کے بعد ۔1980 میں رجنی کانت کی ایک اور سپر ہٹ فلم بلا ریلیز ہوئی۔ بلا امیتابھ کی سپر فلم ڈان کا ریمیک تھا۔
سال 1983 میں ریلیز فلم اندھا قانون کے ذریعہ رجنی کانت نے بالی ووڈ میں بھی قدم رکھا۔ اس فلم میں رجنی کانت کی اداکار ی نہایت شاندار تھی۔ ناظرین نے رجنی کانت کا یہ اندازج بہت پسند کیا۔
اندھا قانون سپر ہٹ فلم رہی۔ اسی دوران رجنی کانت نے’ جان جانی جناردھن’ میں ٹرپل رول کیا ، حالانکہ یہ فلم باکس آفس پرکوئی خاص اثر نہیں دکھا سکی۔
نوے کی دہائی میں رجنی کانت ساوتھ فلموں کے سپر اسٹار بن گئے۔ رجنی کانت نے جتنی بھی فلموں میں کام کیا سبھی باکس آفس پر تقریباً ہٹ رہیں۔ سال 2007 میں رجنی کانت کی فلم شیواجی دی باس ریلیز ہوئی۔ اس فلم نے باکس آفس پر کامیابی کے نئے جھنڈے گاڑے۔شیواجی دی باس ہندستانی سنیما کی تاریخ میں پہلی فلم ہے جس نے ہالی ووڈ ی ریزولیوشن تکنکیک کا ستعمال کیا۔
سال 2010 میں رجنی کانت کی فلم روبوٹ ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں رجنی کانت کے ساتھ ایشوریہ رائے تھیں۔ روبوٹ نے 255 کروڑ روپے سے زیادہ کی کمائی کرکے نئی تاریخ رقم کی۔ روبوٹ رجنی کانت کی تمل فلم انتھرن کا ہندی ورزن تھا۔
سال 2014میں رجنی کانت کی دو فلمیں کوچادائیاں اور لنگا ریلیز ہوئی۔ حالانکہ دونوں فلمیں ٹکٹ کھڑی پر کوئی خاص کمال نہیں دکھا سکی۔
سال1975 میں ہدایت کار کے بال چندر نے انہیں اپنی فلم اپوروا راگنگل میں کاسٹ کیا۔یہ رجنی کانت کی اصل پہچان کا آغاز تھا۔شروع میں انہوں نے ولن اور سپورٹنگ رول کیے، مگر جلد ہی ان کے اسٹائل اور اسکرین پرسنالٹی نے انہیں سپر اسٹار بنا دیا۔
رجنی کانت نے تقریباً 160 سے زائد فلموں میں کام کیا، جن میں تمل فلمیں اورہندی فلمیں شامل ہیں۔
رجنی کانت کی شہرت صرف ہندستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ جاپان، مشرق وسطیٰ، جنوب مشرقی ایشیا اور امریکا میں بھی بے حد مقبول ہیں۔
سپر اسٹار ہونے کے باوجود رجنی کانت بہت سادہ لوح انسان ہیں۔وہ عیش و عشرت کی زندگی کے بجائے سادگی پسند کرتے ہیں۔
انہوں نے 1981 میں لتا رنگا چاری سے شادی کی۔ان کی دو بیٹیاں ہیں، ایشوریا رجنی کانت اور سوندریا رجنی کانت اور دونوں فلم انڈسٹری سے منسلک ہیں۔
رجنی کانت نے کئی دہائیوں سے سیاست میں آنے کی خواہش ظاہر کی۔ سال2020 میں انہوں نے سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا لیکن صحت کے مسائل کی وجہ سے انہوں نے یہ قدم واپس لے لیا۔
بلاشبہ رجنی کانت کو ہندستانی سینما کی تاریخ کے سب سے زیادہ مقبول اداکاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اُن کی مقبولیت کی وجہ اُن کا منفرد اندازِ گفتگو، فلموں میں دکھائی جانے والی انوکھی ایکٹنگ ہے۔
بہت سے لوگوں کے نزدیک رجنی کانت کی شہرت کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی فلموں میں ایک بڑی اسکرین کے ہیرو کے طور پر دکھائی دیتے ہیں جن میںان کے شاندار اسٹنٹس، دلکش تاثرات اور اسٹائل شامل ہیں جبکہ حقیقی زندگی میں وہ ہمیشہ سادگی اور عاجزی پسند کرتے ہیں۔
تقریباً ہر فلم میں رجنی کانت کے کچھ مشہور ڈائیلاگز ہوتے ہیں، جو وہ اپنے خاص انداز میں بولتے ہیں۔ یہ ڈائیلاگز اکثر کوئی پیغام دیتے ہیں یا پھر فلم کے ولن کو خبردار کرتے ہیں۔
رجنی کانت تمل سینما کی تاریخ کے سب سے زیادہ کمائی کرنے والے ادکاروں میں سے ایک ہیں۔2014 میں ٹوئٹر اکاؤنٹ بنانے کے بعد، 24 گھنٹے کے اندر ہی اُن کے دو لاکھ سے زیادہ فالوورز ہو گئے۔ دی اکنامک ٹائمز کے مطابق یہ کسی بھی ہندستانی شخصیت کے لیے فالوورز بڑھنے کی سب سے تیز رفتار تھی اور دنیا میں بھی ٹاپ 10 میں شمار ہوا۔
رجنی کانت نے بہت اعزازات حاصل کیے، جن میں پدما بھوشن، پدما وبھوشن، نیشنل فلم ایوارڈ،فلم فیئر اسپیشل ایوارڈ، شامل ہیں۔ رجنی کانت نے اپنی فلموں ، خاص طور پر تمل فلموں کے لیے بے شمار ایوارڈز حاصل کیے ہیں۔
سال1984 میں انہوں نے فلم “نلّونُکو نلّون” کے لیے بہترین تمل اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ جیتا، جو ان کا پہلا اور واحد فلم فیئر ایوارڈ تھا۔
بعد ازاں انہیں شِواجی (2007) اور انتیھرن/رُوبوٹ (2010) میں بہترین اداکاری پر فلم فیئر نامزدگیاں ملیں۔2014 تک، رجنی کانت چھ تمل ناڈو اسٹیٹ فلم ایوارڈز جیت چکے تھے۔
انہیں سینما ایکسپریس اور فلم فینز ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی اسکرین پر عمدہ اداکاری اور اسکرین کے پیچھے بطور لکھاری اور پروڈیوسر شاندار خدمات پر کئی اعزازات ملے۔