کولکاتا: مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے وضاحت کی ہے کہ نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین، بھارتی کرکٹر محمد شامی اور بنگالی اداکار و ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیو کو بھیجے گئے ایس آئی آر سماعتی نوٹس کسی خاص ہدف کے تحت نہیں بلکہ انتخابی تصدیقی عمل کا معمول کا حصہ تھے۔
ان معروف شخصیات کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں تنازع پیدا ہو گیا تھا۔ بدھ کے روز جاری وضاحت میں سی ای او کے دفتر نے کہا کہ جانچ کے دوران ان کے اینومریشن فارمز میں لازمی لنکیج کالم خالی پائے گئے تھے، جس کی وجہ سے خودکار طور پر سماعت کا عمل شروع ہوا۔
سی ای او کے دفتر نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا، “اینومریشن فارم سے واضح ہوتا ہے کہ متعلقہ ووٹرز نے لنکیج کالم پُر نہیں کیے تھے۔ ایسے تمام معاملات میں، الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق، سماعت ضروری ہوتی ہے اور ان افراد کو دیگر اسی نوعیت کے معاملات والے ووٹرز کے ساتھ طلب کیا گیا۔”
امرتیہ سین کے معاملے میں وضاحت کرتے ہوئے دفتر نے بتایا کہ بطور بیرونِ ملک ووٹر ان کا فارم ایک اہلِ خانہ شانت بھانو سین نے جمع کرایا تھا، جس میں انہیں اپنی والدہ امیتا سین کے ساتھ منسلک کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا “چونکہ ووٹر اور ان کی والدہ کے درمیان عمر کا فرق 15 سال سے کم تھا، اس لیے ای آر او نیٹ پورٹل پر منطقی تضاد سامنے آیا اور سماعت کا نوٹس جاری ہوا۔”
سی ای او کے دفتر نے مزید کہا کہ امرتیہ سین کی عمر 85 برس سے زائد ہونے کے پیشِ نظر، ای آر او/اے ای آر او اور بی ایل او نے ان کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور تمام ضروری کارروائی وہیں مکمل کی۔ دفتر نے زور دے کر کہا کہ تمام معاملات میں یکساں اور الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور نوٹس کے اجرا میں کسی قسم کی خصوصی یا جانبدارانہ نیت شامل نہیں تھی۔