ٹرمپ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے امریکی فوجی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نیکولس ادورو کی گرفتاری کو امریکہ کی جانب سے چین کو ایک سخت پیغام تصور کیا جا رہا ہے ۔
امریکمریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کیوبا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہوانا کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کیا تو اسے آئندہ تیل اور مالی امداد نہیں ملے گی۔
ٹرمپ نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا: ’کیوبا کو اب مزید تیل یا پیسہ نہیں ملے گا۔ بالکل بھی نہیں۔ میں انہیں سختی سے مشورہ دیتا ہوں کہ دیر ہونے سے پہلے امریکہ سے ڈیل کریں۔‘
انہوں نے کہا کہ کیوبا طویل عرصے تک وینزویلا سے بڑے پیمانے پر تیل اور مالی تعاون پر انحصار کرتا رہا ہے۔
ٹرمپ کا یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ ہفتے امریکی فوجی کارروائی میں وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو کی گرفتاری کو امریکہ کی جانب سے چین کو ایک سخت پیغام تصور کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی براعظموں سے دور رہے۔
چین کو سخت پیغام
امریکی حکام کے مطابق کم از کم دو دہائیوں سے چین لاطینی امریکہ میں اپنی سفارتی اور معاشی موجودگی بڑھا رہا ہے جس میں ارجنٹینا میں سیٹلائٹ ٹریکنگ سٹیشن، پیرو میں بندرگاہ اور وینزویلا کو معاشی سپورٹ دینا شامل ہے۔
واشنگٹن کے لیے یہ پیش رفت طویل عرصے سے تشویش کا باعث رہی ہے۔
متعدد حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ مادورو کے خلاف کارروائی کا ایک مقصد چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا بھی تھا اور چین کے لیے سستا وینزویلا کا تیل لینے کے دن ختم ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کو اسی حوالے سے واضح کہا: ’ہم چین اور روس کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن ہم انہیں اپنے پڑوس میں نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ چین کو بتا رہے ہیں کہ امریکہ تیار ہے اور وہ امریکی تیل خرید سکتا ہے۔
تین جنوری کو امریکی کمانڈوز کے کاراکس میں اچانک حملے اور وینزویلا کے صدر کو حراست میں لینے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے چین کی امریکہ میں اثراندازی کی حقیقی حدود سامنے آ گئی ہیں۔
چین اور روس کی جانب سے فراہم کردہ دفاعی سسٹمز کو بھی امریکی فورسز نے چند منٹوں میں ناکارہ بنا دیا تھا۔