ہندی فلموں کے سب سے بااثر قلمکار،اردو شاعری کے جدید فکری نمائندہ، سماجی شعور کی توانا آواز،نئی نسل کے لیے فکری رہنما،ادب، فلم اور فکر تینوں میدانوں میں روشن نظر آتے ہیں۔
ان کی تحریر میں سچ، جرات اور انسانیت بولتی ہے۔ وہ آج بھی برصغیر کے زندہ کلاسک سمجھے جاتے ہیں ۔ جاوید اختر جدید اردو نظم کے اہم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔
جاوید اختر برصغیر کے ممتاز شاعر، نغمہ نگار، اسکرپٹ رائٹر اور دانشور ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری اور ہندی فلمی نغمہ نگاری کو فکری گہرائی، سماجی شعور اور جدید اسلوب عطا کیا۔
جاوید اختر سیکولرزم، اظہارِ رائے، عورتوں کے حقوق اور سائنسی فکر کے حامی ہیں۔مذہبی انتہا پسندی اور توہم پرستی پر کھل کر تنقید کرتے ہیں۔مختلف قومی و بین الاقوامی فورمز پر لیکچرز دیتے ہیں۔
تقریبا تین دہائیوں سے اپنے نغموں سے موسیقی کی دنیا کو شرابور کرنے والے عظیم شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کے رومانی نغمے آج بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں جنہیں سن کر سامعین کے دل سے بس ایک ہی آواز نکلتی ہے “جب چھائے تیرا جادو کوئی بچ نہ پائے”۔
سال 1981 میں ہدایت کار یش چوپڑا پنی نئی فلم ‘سلسلہ’ کیلئے نغمہ نگار کی تلاش میں تھے۔
ان دنوں فلم انڈسٹری میں جاوید اختر بطور مکالمہ نگار اپنی شناخت بنا چکے تھے، یش چوپڑا نے جاوید اختر سے فلم سلسلہ کے گیت لکھنے کی پیشکش کی۔ فلم “سلسلہ” میں جاوید اختر کے گیت ”دیکھا ایک خواب تو سلسلے ہوئے” اور ”یہ کہاں آ گئے ہم ” بے انتہا مقبول ہوئے۔
فلم سلسلہ میں اپنے نغموں کی کامیابی سے حوصلہ پاکر جاوید اختر نے نغمہ نگار کے طور پر بھی کام کرنا شروع کیا۔اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
جاوید اختر17 جنوری 1945کو گوالیار، مدھیہ پردیش، میں پیدا ہوئے۔ ا ن کے والد جاں نثار اختر بھی اردو کے ممتاز شاعر تھے ۔جاوید اختر کو ادب اور شاعری کا ذوق وراثت میں ملا۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی۔
جاوید اختر کا بچپن سے ہی شاعری سے گہرا رشتہ رہا ہے ۔ انہوں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ بہت قریب سے دیکھے ہیں اس لئے ان کی شاعری میں زندگی کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ان کے نغموں کی یہ خوبی رہی ہے کہ وہ اپنی بات بڑی آسانی سے دوسروں کو سمجھا دیتے ہیں ۔
انہوں نے اپنی میٹرک کی تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی اس کے بعد بھوپال کے صوفیہ کالج سے گریجویشن کیا لیکن کچھ دنوں بعد وہ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے 1964 میں ممبئی آگئے اور محض 100 روپے کی تنخواہ پر فلموں میں ڈائیلاگ لکھنے کا کام کرنے لگے ۔ اس دوران انہوں نے کئی فلموں کے لئے ڈائیلاگ لکھے لیکن ان میں سے کوئی بھی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔
ممبئی میں جاوید اختر کی ملاقات سلیم خان سے ہوئی اور دونوں نے مشترکہ طور پر کام کرنا شروع کردیا۔ ستر کی دہائی میں جاوید اختر نے سلیم خان کے ساتھ مل کر مشہور جوڑی سلیم-جاوید بنائی۔اس جوڑی نے ہندی سنیما کو طاقتور مکالمے، مضبوط کہانیاں اور “اینگری ینگ مین” کا تصور دیا۔زنجیر (1973)دیوار (1975)شعلے (1975)ڈان (1978)ترشول،کالا پتھر جیسی فلمیں آج بھی ہندی سنیما کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔
میں جلوہ گر فلم ‘انداز’ کی کامیابی کے بعد اس جوڑی نے کئی اچھی فلموں میں بطور ڈائیلاگ رائٹر کام کیا اور کامیاب ہوئے۔ ان میں ‘ہاتھی میرے ساتھی، سیتا اور گیتا، زنجیر، یادوں کی بارات’ جیسی سپرہٹ فلمیں شامل ہیں۔
سال1987 میں فلم ‘مسٹر انڈیا’ کے بعد سلیم جاوید کی سپرہٹ جوڑی الگ ہوگئی اور جاوید نے فلموں کے لئے ڈائیلاگ لکھنے کا کام جاری رکھا ۔
سلیم-جاوید کی علیحدگی کے بعد جاوید اختر نے نغمہ نگار کے طور پر نئی پہچان بنائی۔ان کے مشہور فلمی گیتوں میں ایک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا (1942 اے لو اسٹوری)،سندیسے آتے ہیں (بارڈر)کل ہو نہ ہو (کل ہو نہ ہو)تیرے لیے (ویر-زارا)یہ جو دیش ہے تیرا (سوادیش)چک دے انڈیا (چک دے! انڈیا) وغیرہ ہیں۔ ان کے گیت محبت، انسانیت، وطن دوستی اور زندگی کے فلسفے کا عکس ہوتے ہیں۔
جاوید اختر کو ہندستانی سنیما کی تاریخ کے عظیم ترین اسکرین رائٹرز اور نغمہ نگاروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ ایک اسکرین رائٹر، نغمہ نگار، شاعر اور سیاسی و سماجی کارکن ہیں۔فلمی کیریئر کے علاوہ، جاوید اختر ایک بے باک عوامی دانشور اور سماجی کارکن بھی رہے ہیں۔ وہ سیکولرازم، آزادیٔ اظہار اور صنفی مساوات کی بھرپور وکالت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
انہوں نے مذہب، انسانی حقوق اور رَیشنلزم جیسے موضوعات پر وسیع پیمانے پر تحریر اور اظہارِ خیال کیا ہے۔جاوید اختر 2010 سے 2016 تک راجیہ سبھا کے نامزد رکن رہے، جہاں انہوں نے فنونِ لطیفہ کی نمائندگی کی۔
2019 کے عام انتخابات کے دوران انہوں نے کھلے عام کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی حمایت بھی کی۔ادب، فلم اور آزاد فکری خدمات کے اعتراف میں، جاوید اختر 2020 میں رچرڈ ڈاکنز ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے ہندستانی بنے۔
انہیں آٹھ مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔1999 میں ادبی دنیا میں بیش قیمتی تعاون کے مدنظر انہیں پدم شری ایوارڈ سے اور 2007 میں پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔