بیروت: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں لبنان میں واقع امریکی سفارتخانے سے درجنوں اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو عارضی طور پر واپس بلا لیا گیا ہے جبکہ سفارتی مشن کو محدود عملے کے ساتھ فعال رکھا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ غیر ہنگامی نوعیت کے سرکاری اہلکاروں اور اہلِ خانہ کو رفیق حریری انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے روانہ کیا گیا، سیکیورٹی ماحول کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالیہ حالات کے پیشِ نظر عملے کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے، یہ اقدام عارضی ہے اور سفارتخانہ بنیادی عملے کے ساتھ بدستور کام کر رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ سفارتخانے کے اہلکاروں پر پیشگی اجازت کے بغیر ذاتی سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی خطرات کے پیشِ نظر کسی بھی وقت مزید سفری پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ بیروت میں واقع United States Embassy in Beirut نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی شہریوں کی معاونت جاری رکھی جائے گی۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ جوہری معاہدے پر بات چیت کا نیا دور جمعرات کو جنیوا میں متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر دس سے پندرہ دن کے اندر کسی معاہدے تک پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔