ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حالیہ مذاکرات کے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران ان مطالبات کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں جو امریکا کے لیے ضروری ہیں، اسی وجہ سے وہ موجودہ صورتحال سے خوش نہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران محدود سطح پر یورینیم افزودگی جاری رکھنا چاہتا ہے، لیکن امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ معاملہ عالمی سلامتی سے جڑا ہوا ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
فوجی کارروائی سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہتے، تاہم بعض حالات میں ایسا کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے لیکن اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے گا۔
دوسری جانب عمان کے اعلیٰ سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے افزودہ یورینیم ذخیرہ نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس پیش رفت کو مذاکرات میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مزید بات چیت جاری ہے۔