امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ ایک نئے تنازع میں داخل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔
متعدد بین الاقوامی ایئر لائنز نے خطے کے لیے اپنی پروازیں منسوخ یا معطل کر دی ہیں، جبکہ دبئی، دوحہ اور ابوظبی جیسے بڑے فضائی مراکز تیسرے روز بھی بند رہے۔
دبئی، دوحہ اور ابوظبی کی بندش کے باعث دنیا بھر میں ہزاروں مسافر پھنس گئے ہیں اور ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ ایئر لائنز نے سکیورٹی خدشات اور فضائی حدود کی بندش کے باعث ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
ذیل میں اہم ایئر لائنز کی تازہ صورتحال پیش ہے:
ایجین ایئرلائنز نے تل ابیب، بیروت اور اربیل کے لیے پروازیں 3 مارچ تک معطل کر دیں۔
ایئر فرانس اور کے ایل ایم نے تل ابیب، بیروت، دبئی اور ریاض کے لیے پروازیں منسوخ کر دیں، جبکہ کچھ روٹس پر 6 مارچ تک خلل کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
ایئر انڈیا نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اسرائیل اور قطر کے لیے تمام پروازیں 2 مارچ تک معطل کر دیں، جبکہ یورپ کے بعض روٹس بھی متاثر ہوئے۔
برٹش ایئرویز نے لندن سے ابوظبی، عمان، بحرین، دوحہ، دبئی اور تل ابیب جانے والے مسافروں کو ٹکٹ کی تاریخ تبدیل کرنے یا رقم کی واپسی کی سہولت فراہم کی ہے۔
کیتھے پیسیفک ایئرویز نے دبئی کے لیے تمام پروازیں 5 مارچ تک منسوخ اور ریاض کے لیے پروازیں 3 مارچ تک معطل کر دیں۔
ایمریٹس اور اتحاد ایئرویز نے اپنے دبئی اور ابوظبی ہب سے تمام پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔
انڈیگو نے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود استعمال کرنے والی تمام پروازیں کم از کم 2 مارچ تک معطل کر دیں۔
لوفتھانزا نے تل ابیب، بیروت، عمان، دمام، اربیل اور تہران کے لیے پروازیں 8 مارچ تک جبکہ دبئی کے لیے 4 مارچ تک روک دیں۔
سنگاپور ایئرلائنز نے دبئی کے لیے پروازیں 7 مارچ تک منسوخ کر دیں، جبکہ اس کی ذیلی ایئر لائن اسکوٹ نے جدہ کے لیے پروازیں معطل کیں۔
قطر ایئرویز نے قطری فضائی حدود بند ہونے کے باعث دوحہ کے لیے پروازیں عارضی طور پر روک دیں۔
ترکش ایئرلائنز نے بحرین، ریاض، ایران، عراق، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، شام اور متحدہ عرب امارات کے لیے بعض پروازیں منسوخ کر دیں۔
وز ایئر نے اسرائیل، دبئی، ابوظبی اور عمان کے لیے پروازیں 7 مارچ تک معطل کر دیں۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری عسکری کشیدگی کے باعث فضائی حدود کی بندش اور سکیورٹی خطرات نے عالمی ہوا بازی کے نظام کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ اگر صورتحال طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔