ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کا قتل ایک مذہبی جرم ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی خطے کے کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں ہے، تاہم ایران پر حملے کے معاملے پر علاقائی ممالک کو امریکا پر دباؤ ڈالنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر کے سفارت کاری کے عمل کو دھوکا دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والی 160 طالبات کی قبروں کی تصویر بھی جاری کی اور کہا کہ کیا یہی وہ مدد تھی جس کا وعدہ امریکی صدر نے ایرانی عوام سے کیا تھا۔
دوسری جانب ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا کہ ایران طویل جنگ کے لیے تیار ہے اور اپنی چھ ہزار سالہ تہذیب کے دفاع کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔