تہران: ایران کی جانب سے بحرین میں امریکی بحریہ کے ہیڈکوارٹرز اور فوجی اڈوں پر کیے گئے جوابی حملوں میں کم از کم 160 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز پر اپنا مکمل کنٹرول قائم کر چکے ہیں، ایرانی فوج کے مطابق امریکہ کے خلاف جاری کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 650 تک پہنچ گئی ہے۔
![]()
شہید آیت اللہ خامنہ ای کے سینئر مشیر محمد مخبر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ تو براہِ راست اور نہ ہی بالواسطہ کسی نوعیت کے روابط موجود ہیں، اور ایران اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے تہران کے مرکزی آزادی اسکوائر پر دوبارہ بمباری کی، جس کے بعد دھوئیں کے گھنے بادل میلوں دور تک بلند ہوتے دکھائی دیے۔ حملے کے نتیجے میں اسکوائر کے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی اور متعدد شہری شدید جانی نقصان کا شکار ہو گئے۔
دوسری جانب ایران نے تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں تازہ حملے کر دیے، جس کے فوراً بعد خطرے کے سائرن بج اٹھے اور مقامی آبادی میں ہنگامی الرٹ جاری کر دیا گیا، ایران کی عسکری تنظیم اسلامک پاسدارانِ انقلاب گارڈز (آئی آر جی سی) نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب بڑے پیمانے پر بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں، جن کا مقصد خاص طور پر اہم عسکری اور اسٹریٹیجک اہداف بتایا جا رہا ہے۔
Flames and black smoke were seen rising from the US Consulate in Dubai after a suspected attack amid Iranian retaliation for US-Israeli strikes. pic.twitter.com/gMc2eBa0sJ
— Al Jazeera English (@AJEnglish) March 3, 2026








