ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے اسرائیلی اور امریکی سفیروں کو نکال دیا ہے، انہیں آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے ممالک کل سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مکمل آزادی کے ساتھ بحری راستہ استعمال کر سکیں گے۔
ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے ایران کے حوالے سے امریکی صدر کی باتوں کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ایران کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں سلامتی یا تو سب کے لیے ہوگی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو خطے سے ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ری پبلکن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مناسب وقت آنے پر آبنائے ہرمز میں امریکی نیوی جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی۔
اس سے قبل بھی امریکی صدر نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز میں کمرشل جہازوں کے ساتھ امریکی نیوی بھی تعینات کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہمت ہے تو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکی بحری جہاز تعینات کر کے دکھائیں۔