دنیا بھر میں تیزی سے فروغ پانے والی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی اب بچوں کے کھلونوں میں بھی شامل ہو چکی ہے، جہاں بات کرنے والے روبوٹس، اسمارٹ گڑیا اور انٹرنیٹ سے جڑے تعلیمی کھلونے مقبول ہو رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کھلونے بچوں کی تعلیم اور تفریح میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے استعمال میں احتیاط نہ برتی جائے تو مختلف خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ کھلونے عام طور پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ہوتے ہیں اور بچوں کے ساتھ گفتگو کرنے، سوالوں کے جواب دینے اور مختلف تعلیمی سرگرمیوں میں رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے والدین کی بڑی تعداد انہیں بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے مفید سمجھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے کھلونوں کا ایک نمایاں فائدہ یہ ہے کہ وہ بچوں کو زبان، ریاضی اور مختلف موضوعات سیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ بعض کھلونے کہانیاں سنانے، سوال جواب کرنے اور مسئلے حل کرنے جیسی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی بڑھاتے ہیں۔
اسی طرح ان کھلونوں کی انٹرایکٹو خصوصیات بچوں کے لیے کھیل کو زیادہ دلچسپ بنا دیتی ہیں۔ بچے کھلونوں سے سوال پوچھ سکتے ہیں اور فوری جواب حاصل کر سکتے ہیں جس سے ان کی تجسس اور سیکھنے کی صلاحیت کو تقویت ملتی ہے۔
تاہم ماہرین اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات کے بارے میں بھی خبردار کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سے اے آئی کھلونوں میں مائیکروفون، کیمرہ یا انٹرنیٹ کنکشن موجود ہوتا ہے جس کے ذریعے بچوں کی آواز، گفتگو اور رویے سے متعلق معلومات جمع کی جا سکتی ہیں۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق اگر یہ ڈیٹا محفوظ نہ ہو تو ہیکنگ یا غلط استعمال کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض واقعات میں اسمارٹ کھلونوں کے ڈیٹا لیک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں جس سے بچوں کی ذاتی معلومات انٹرنیٹ پر ظاہر ہو گئیں۔
ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بعض اے آئی کھلونوں کے تقریباً 27 فیصد جوابات بچوں کے لیے نامناسب یا غیر موزوں پائے گئے۔ اس طرح کے مواد سے بچوں کی ذہنی تربیت اور رویے پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ اسمارٹ کھلونے بچوں میں جذباتی وابستگی پیدا کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں جس کے باعث بچے انہیں حقیقی دوست سمجھنے لگتے ہیں۔ اس صورتحال سے بچوں کی حقیقی سماجی مہارتوں اور انسانی تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ والدین ایسے کھلونے خریدتے وقت ان کی سیکیورٹی اور پرائیویسی پالیسی کا جائزہ لیں اور بچوں کے استعمال کی نگرانی بھی کریں تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کیے جا سکیں اور ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔