آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستقبل بہت برا ہوگا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز کھلوانے میں مدد نہ کی تو نیٹو کا مستبقل بہت برا ہوگا۔
صدر ٹرمپ نے دوران پرواز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران سے بات کر رہے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق 7 ممالک سے بات چیت کررہے ہیں، ان سے آبنائے ہرمز کی حفاظت میں مدد کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے امریکا کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
برطانوی اخبار کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ رواں ماہ کے آخر میں چین کے صدر سے طے شدہ ملاقات تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ صرف اسی وقت مناسب لگتی جب آبنائے ہرمز سے مستفید ہونے والے یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو۔
ٹرمپ نے ہفتے کے روز آبنائے ہُرمُز کھولنے کے لیے چین سمیت دنیا بھر سے مدد طلب کی تھی اور امید ظاہر کی تھی کہ چین کے ساتھ ساتھ فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ملک بھی اپنے جنگی جہاز آبنائے ہُرمز بھیجیں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے ٹرمپ کی مدد کی اپیل پر دنیا خاموش رہی، جبکہ جاپان نے اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کیا، چین بھی ٹرمپ کے مطالبے پر خاموش رہا۔
واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے کہا کہ چین متعلقہ فریقین سے رابطے موثر بنانے میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔
برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے رابطے میں ہیں ہوسکتا ہے بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرون بھیج دیں۔
جنوبی کوریا کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے صورت حال کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں جبکہ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔