اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ مسجد انہدام معاملہ پر سماجوادی پارٹی نے ایک بار پھر آواز اٹھائی ہے۔ کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ اقرا حسن نے کہا ہے کہ ’’مسجد اسی جگہ پر تعمیر ہوگی اور ضرور تعمیر ہوگی۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہمیں تو اس وقت عدالت جانے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، لیکن ہم اب عدالت سے ضرور فتحیاب ہوں گے۔ عدالت میں فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔‘‘ یہ بیان اقرا حسن نے سہارنپور میں منعقدہ پی ڈی اے کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اس دوران انھوں نے اتر پردیش کی یوگی حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔
اقرا حسن نے کہا کہ ’’یہ لوگ (بی جے پی والے) سہارنپور میں مسجد کے نام پر فساد کرانا چاہتے تھے، اور اس کے پیچھے ان کی سازش تھی کہ نوجوانوں کو جیل بھیج دیا جائے۔
لیکن ان لوگوں کی یہ سازش ناکام ہوگئی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے یو سی سی کے مسئلے پر بھی حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قصداً ایک فریق کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ محض اقلیتی طبقہ کو پریشان کرنے کی کوشش ہے۔
واضح رہے کہ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کی زمین کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔ انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ مسلم فریق نے سرکاری زمین پر غیر قانونی طریقے سے قبضہ کر کے مسجد تعمیر کی تھی۔
دوسری طرف مسلم فریق کا کہنا تھا کہ یہ زمین وقف کی تھی اور اس زمین پر 100 سال سے بھی زیادہ عرصے سے مسجد تعمیر تھی۔ حالانکہ عدالت نے مسلم فریق کی دلیل کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد انتظامیہ نے راتوں رات اس مسجد پر بلڈوزر چلا دیا۔