ایران نے فلائی دبئی کی مسافر پرواز میں پیش آنے والے واقعے میں کسی بھی قسم کے کردار کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کے خلاف ایک مبینہ ’فالس فلیگ‘ کارروائی قرار دیا ہے۔
تہران میں پریس کانفرنس کے دوران ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ حالیہ واقعے کو ایران سے جوڑنے کی کوششیں بے بنیاد اور من گھڑت شواہد پر مبنی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی دشمنانہ اقدام کا جواب دینے اور اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ 7 ماہ کے دوران دنیا اس نوعیت کے متعدد واقعات دیکھ چکی ہے، اس لیے موجودہ معاملے میں ایران پر عائد کیے جانے والے الزامات کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ایرانی ترجمان نے اسرائیل اور بعض یورپی ممالک پر ماضی میں ’فالس فلیگ‘ کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ دعوے انتہائی کمزور اور جعلی شواہد کی بنیاد پر تیار کیے گئے ہیں۔
انہوں نے برطانیہ کی جانب سے آر اے ایف فیئر فورڈ اور ایک اماراتی طیارے سے متعلق عائد کیے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کے ذریعے ایران کے خلاف ایک مخصوص تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اسماعیل بقائی نے الزام لگایا کہ اسرائیل اور اس کے یورپی حامی غزہ کی صورتحال اور ایران کے خلاف جاری جارحیت سے عالمی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایران کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے ایران کے خلاف الزامات کو ایک ’پرانا حربہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران کو من گھڑت شواہد کی بنیاد پر کسی بھی واقعے سے جوڑنے کی کوششیں قابل قبول نہیں۔
واضح رہے کہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی اماراتی ایئرلائن کی ایک پرواز کو دوران سفر سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ واقعے کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ طیارے کے معاون پائلٹ نے مبینہ طور پر کپتان پر حملہ کرکے پرواز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی۔
مسافروں اور عملے کے ارکان نے مبینہ طور پر معاون پائلٹ کو قابو کرلیا، جس کے بعد متبادل عملے نے طیارے کو بحفاظت منزل پر اتارا۔
واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے کہا تھا کہ معاون پائلٹ کے ایران سے روابط ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ واقعے میں ایران ملوث تھا یا نہیں، تاہم بعد ازاں اسرائیلی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ معاون پائلٹ بظاہر اکیلے ہی یہ کارروائی کر رہا تھا۔